مالیاتی بوجھ کو کم کرنا ہے
Reading Time: < 1 minuteوزیر خزانہ اسد عمر نے کہاہے کہ معشیت کو درپیش مالیاتی بوجھ کو کم اور پاکستان کو مالی طور پر مظبوط بنانا ہے ۔ انہوں نے انتظامی و پالیسی اصلاحات کے لیے نظام الاوقات متعین کرنے کی ہدایت کی جبکہ ایف بی ار حکام نے وزیر خزانہ کو ٹیکس انتظامیہ اور ٹیکس پالیسی کے ایڈہاک کے نظام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا ہے۔
وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی مالیاتی حکمت عملی اور مالیاتی شعبے کے بارے میں اقتصادی مشاورتی کونسل کے ذیلی گروپ کے اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں وزارت خزانہ اسٹیٹ بینک ایف بی ار اور ایس ای سی پی کے حکام نے شرکت کی گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجو نے قومی مالیاتی شمولیت کی حکمت عملی پیش کی حکمت عملی میں آئندہ سالوں میں اہداف کے حصول کے لیے کیے جانے والے ضروری اقدامات سے آگاہ کیا گیا جبکہ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے پر غور کیا گیا ایف بی ار حکام نے وزیر خزانہ کو ٹیکس انتظامیہ اور ٹیکس پالیسی کے ایڈہاک کے نظام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا ۔
حکام نے بتایا کہ مسائل سے ٹیکس وصولی میں کمی اور مالی امور میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے جبکہب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئی ٹی سے ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل روابط کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے مالی شمولیت کی حکمت عملی کو سراہا اور حکمت عملی پر عملدرآمد کو مزید موثر بنانی کی ہدایت بھی کی وزیر خزانہ نے انتظامی و پالیسی اصلاحات کے لیے نظام الاوقات متعین کرنے کی ہدایت بھی کی ۔