رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی چوتھے مقدمے میں ضمانت منظور
Reading Time: < 1 minuteپاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پشتون تحفظ موومنٹ سے وابستہ رُکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
منگل کو عدالت نے اُن کے ساتھ گرفتار کیے گئے دیگر دو افراد کی ضمانتیں بھی منظور کیں۔
علی وزیر کی اب چاروں مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہے۔
عدالت نے علی وزیر کی ایک لاکھ روپے میں ضمانت منظور کی ہے. علی وزیر کے خلاف کراچی ضلع جنوبی کے بوٹ بیسن تھانے میں مقدمہ درج ہے. ان پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزامات ہیں.
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 20 دسمبر 2020 کو علی وزیر اور پی ٹی ایم کے دیگر 3 رہنماؤں کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی علی وزیر 31 دسمبر 2021 سے کراچی کی مرکزی جیل میں قید ہیں۔ عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق علی وزیر کو پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی ہدایات پر ریلی نکالنے پر گرفتار کیا گیا تھا.
اُن پر تین مقدمات کراچی جبکہ ایک وزیرستان میں درج کیا گیا تھا۔
علی وزیر پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاسی اجتماعات کے دوران فوج کی قیادت کے خلاف توہین آمیز باتیں کیں۔
اُن کی چوتھے کیس میں ضمانت کا معاملہ گزشتہ چھ ماہ سے عدالت میں زیرالتوا تھا اور مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر ہو رہی تھی۔