اہم خبریں عالمی خبریں

انڈیا میں طالبات کے حجاب کا مسئلہ کیسے شروع ہوا؟

فروری 11, 2022 < 1 min

انڈیا میں طالبات کے حجاب کا مسئلہ کیسے شروع ہوا؟

Reading Time: < 1 minute

انڈیا کی ہندو اکثریتی ریاست کرناٹک کے شہر اُوڈوپی کے ایک کالج نے گزشتہ برس دسمبر میں کلاس رومز کے اندر مذہبی علامات کے استعمال سے روکنے کا انتظامی حکم جاری کیا۔

کالج کی پانچ مسلمان طالبات جو بچپن سے سکارف یا حجاب لیتی تھیں انہوں نے حکم عدولی کی تو اُن پر کالج میں داخل ہونے کی پابندی عائد کر دی گئی۔

کالج نے کلاس رومز میں مذہبی علامات کے استعمال پر پابندی کا حکم بظاہر سیکولرازم کو تحفظ دینے کے لیے جاری کیا تھا مگر اب یہ دو مذاہب کے درمیان جنگی صورتحال کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

پانچوں طالبات اس وقت سے کالج کے خلاف احتجاج پر ہیں، اس کے جواب میں اُڈوپی میں ہندو نوجوان اپنے مذہب کی علامت کے اظہار کے طور پر زعفرانی مفلر اور شال پہن کر تواتر سے جمع ہوتے ہیں۔

جنوبی ریاست کرناٹک میں مذہبی احتجاج اور اس کے جواب میں مخالف مظاہروں کی لہر اب دیگر ریاستوں تک چلی گئی اور یہ سلسلہ اب انڈیا سے باہر بھی شروع ہو رہا ہے۔

کرناٹک کے شہر مندیہ کے ایک کالج میں مسلمان طالبہ مسکان خان کو دیکھ کر زعفرانی رنگ کے مفلر پہننے ہندو لڑکوں نے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے جواب میں لڑکی نے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ بلند کیا۔

اس کی ویڈیو بنی اور یہ ویڈیو پورے انڈیا میں تیزی سے وائرل ہوئی اور اب پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ پوری دنیا میں نئی بحث کو جنم دے چکی ہے۔

حجاب کے معاملے پر انڈیا کے بڑے شہروں دہلی، ممبئی اور کولکتہ کے بعد پڑوسی ملک پاکستان میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے