میشا شفیع کیس سپریم کورٹ میں
اسلام آباد سے خالدہ شاہین رانا
و ونگاں چڑھا لوو کڑیو میرے داتا دے دربار دیاں ”سے راتوں رات مشہور ہونے والی گلوکارہ، و پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ صباء حمید کی صاحبزادی میرا شفیع عرف میشا شفیع کی جانب سے گلوکار و اداکار علی ظفر پر ماضی میں اکٹھا کام کرنے کے دوران متعدد بار جنسی طور پر حراساں کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف مبینہ جھوٹا الزام عاید کرنے کی بناء پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کی عدالت میں دائر کئے گئے 100 ملین روپے کے ہتک عزت کے دعویٰ کو تین ماہ کے اندر نمٹانے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف میشا شفیع کی اپیل کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ہے ۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحی ٰ آفریدی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے میشا شفیع کی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی تو ان کے وکیل حارث عظمت نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں علی ظفر کے کل 24 گواہ ہیں ۔
وکیل نے کہا کہ ان کی استدعا ہے کہ 9 گواہوں کے اکٹھے بیانات قلمبند کرنے اور جرح بعد میں کرنے کی اجازت دی جائ۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کسی فریق کے وکیل کی خواہش کے مطابق گواہوں کے بیان نہیں لیے جا سکتے ہیں، آپ کس قانون کے تحت ٹرائل کورٹ میں تمام گواہوں کے بیانات ایک ساتھ قلمبند کرنا اوران پر جرح بعد میں کرنا چاہتے ہیں، قانون کے مطابق ایسا نہیں ہو سکتا ہے، گواہوں بیانات قلمبند کرنے سے متعلق ٹرائل کورٹ نے ہی طے کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے 30 سا لہ کیریئر کے دوران ایسی کوئی ایک مثال بھی نہیں دیکھی ہے۔
میشا کے وکیل نے چند عدالتی مثالیں پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ ہونے کے کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلے کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتے ہیں، عدالت کا فیصلہ غلط بھی ہوسکتا ہے۔
تاہم عدالت کا وقت ختم ہو جانے کی بناء پر کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔
یاد رہے کہ میشا شفیع نے اپریل 2018 میں ایک ٹویٹ کے ذریعے گلوکار و اداکار علی ظفر پر انہیں ماضی میں متعدد بار جنسی طور پر حراساں کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور معاملہ صوبائی محتسب برائے تحفظِ ملازمت پیشہ خواتین تک جاپہنچا تھا تاہم فاضل محتسب نے قرار دیا تھا کہ میشا شفیع، علی ظفر کی ماتحت نہیں تھی اس لئے یہ معاملہ ان کے دائرہ کار سے باہر ہے ۔
میشا نے اس کے خلاف (ایپلیٹ اتھارٹی) گورنر پنجاب کے پاس اپیل دائر کی تھی جنہوں فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی تھی۔
میشا نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کررکھی ہے، دوسری جانب علی ظفر نے صوبائی محتسب برائے تحفظِ ملازمت پیشہ خواتین کی جانب سے اپنے حق میں آنے والے فیصلے کی بنیاد پر میشا شفیع کے خلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کی عدالت میں 100ملین روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا تھا جس میں میشا شفیع کے وکیل نے علی ظفر کے 9گواہوں کے بیانات ایک ہی سماعت میں قلمبند کرنے اور جرح کرنے کی استدعا کی تھی جو کہ خارج ہو جانے پر اس کے خلاف اپیل دائر کی گئی تو لاہور ہائی کورٹ نے عدالت کو معمول کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے کیس کو تین ماہ کے اندر اندر نمٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔
اس حکم کے خلاف میشا شفیع نے سپریم کورٹ میں یہ اپیل دائر کی ہے۔
خیال رہے کہ میشا شفیع نے بھی علی ظفر کو مبینہ ہتک عزت میں معافی مانگنے اور 2 ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کا ایک نوٹس بھجوا رکھا ہے۔

