اپیل مسترد، فیصل واوڈا خود اپنی نااہلی کے فیصلے کا باعث بنے:ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واوڈا کی الیکشن کمیشن سے تاحیات نااہلی کے خلاف دائر رٹ پٹیشن خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما عدالت میں اپنے کنڈکٹ کے باعث اپنے خلاف فیصلے کا باعث بنے۔
بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا کی نااہلی کے خلاف درخواست کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی اور اس پر فیصلہ سنایا۔
فیصلے کے مطابق ’طویل عرصہ تک الیکشن کمیشن اور عدالت کے سامنے فیصل واوڈا تاخیری حربے استعمال کرتے رہے، فیصل واوڈا نے شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع کرانے سے بھی انکار کیا۔‘
عدالت میں ایک موقع پر واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 کی شق ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی ایک سیاستدان کے لیے سزائے موت ہے۔ جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ سزائے موت بہت سے سیاستدانوں کو مل چکی ہے۔
عدالت کے مطابق ’فیصل واوڈا کی ذمہ داری تھی کہ مجازاتھارٹی سے دہری شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ پیش کرکے اپنی نیک نیتی ثابت کرتے، انہوں نے نااہلی کیس میں کارروائی سے بچنے کے لیے استعفیٰ دیا۔‘
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’کمیشن کی تحقیقات اور فیصل واوڈا کے طرز عمل سے ثابت ہوا جمع کرایا گیا حلف نامہ جھوٹا تھا، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کا الیکشن کمیشن اور یہ عدالت پابند ہیں، پٹیشنر کا اپنا کنڈکٹ اس کی نااہلی کا باعث بنا، افسوس کے ساتھ کہیں گے کہ اس کے نتائج کے فیصل واوڈا خود ذمہ دار ہیں۔‘

