آرٹیکل 62 ون ایف کسی رکن پارلیمان کو پھنسانے کا پھندا نہیں: عدالت
پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف کسی رکن پارلیمان کو پھنسانے کا پھندا نہیں ہے۔
منگل کو سپریم کورٹ میں سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 27 نواب شاہ سے رکن غلام قادر چانڈیو کی جعلی ڈگری کے کیس کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔
عدالت نے درخواست زائد المیعاد ہونے کے سبب نمٹا دی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ تو سنہ 2013 کے الیکشن کا ہے۔ وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ جی، اب 2022 چل رہا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ان کی عدالت اراکین پارلیمنٹ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف کسی کو پھنسانے کے لیے پھندا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں اس آرٹیکل کے تحت اراکین کے صادق و آمین ہونے کو جانچا جاتا ہے اور ماضی قریب میں عدالتیں کئی ارکان پارلیمان کو اس پیمانے پر نااہل قرار دے چکی ہیں۔
سپریم کورٹ نے انتخابی عذرداری کا ایک اور کیس درخواست گزار کی وفات کے سبب نمٹا دیا۔

