جنرل باجوہ نے مولانا کا نام بگاڑنے سے منع کیا: عمران خان
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کو آرمی چیف نے مولانا فضل الرحمان کا نام بگاڑنے سے گریز کرنے کے لیے کہا۔
جمعے کو خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات ہوئی ہے، انہوں نے مجھے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو آپ نے ڈیزل نہیں کہنا۔‘’میں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ میں نہیں کہتا، عوام نے اس کا نام ڈیزل رکھا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ابھی ڈیزل نے ایک نیوز کانفرنس کی کہ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو ادارے کو ٹھیک کریں گے، مطلب فوج کو ٹھیک کریں گے۔‘
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’یہ ڈاکوؤں کا گلدستہ فوج کو ٹھیک کرے گا؟ کیا ملک کی سب سے بڑی بیماری زرداری فوج کو ٹھیک کرے گا؟ ایسے خواب بھول جاؤ۔‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ’ڈیزل نے امریکی سفیر کے سامنے بیٹھ کر کہا کہ میں آپ کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہوں، مجھے بھی ایک موقع دے دو۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے۔ آپ نے وہ کیا جو کپتان اللہ سے کررہا تھا، کیونکہ کبھی یہ دھرنا دینے آرہے تھے کبھی حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دے رہے تھے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’اب مجھے موقع ملا ہے، ایک اینڈ سے تین وکٹیں گراؤں گا۔‘
انہوں ںے کہا کہ ’میرا مقابلہ نواز شریف، آصف زرداری اور فضل الرحمان یعنی تین ڈاکوؤں سے ہے۔‘
نواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’وہ بزدل شخص جھوٹ بول کر یہاں سے گیا کہ میں نے علاج نہ کرایا تو میں مر جاؤں گا۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’اس سے پہلے بھی اس نے ملک سے باہر جانے کے بعد جھوٹ بولا تھا کہ میرا جنرل پرویز مشرف سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔‘

