انڈیا نے ایٹمی پڑوسی ریاست پر میزائل داغ کر غیر ذمہ داری دکھائی: پاکستان
پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ انڈیا کو یہ تسلیم کرنے میں دو دن لگ گئے کہ ’معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے اس کا میزائل پاکستانی علاقے میں گرگیا۔‘
ایک ویڈیو بیان میں پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کے سپر سونک میزائل نے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔‘
معید یوسف نے کہا کہ ’انڈین میزائل نے بین الاقوامی اور مقامی کمرشل جہازوں کے روٹس کے قریب سے پرواز کی جس سے مسافروں کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوئے۔‘
مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ’اس واقعے نے حساس ٹیکنالوجی رکھنے کی انڈین صلاحیت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کیسا ملک ہے جس کا میزائل چل گیا اور وہ دو دن بعد وضاحت پیش کررہا ہے۔ انڈیا کی جانب سے میزائل غلطی سے فائر ہوجانے کی وضاحت بھی مشکوک ہے۔‘
معید یوسف نے کہا کہ ’انڈیا کو اس واقعے پر پاکستان کو اعتماد میں لینے کی بھی توفیق نہیں ہوئی، یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔‘
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان انڈیا جیسی ایک بدمعاش ریاست سے ڈیل کررہا ہے اور ہم بار بار دنیا کی توجہ انڈیا کے ناقص دفاعی نظام کی جانب دلاتے رہے ہیں۔‘
پاکستان کے مشیر قومی سلامتی کے مطابق ’انڈیا کے ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔‘
واضح رہے کہ بدھ کے روز انڈیا کا ایک میزائل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے میاں چنوں میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا بریفنگ میں اس واقعے سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا تھا۔

