عمران خان کی 27 مارچ کو اسلام آباد میں حامیوں کے انسانی سمندر کو دعوت
پاکستان کے وزیراعظم عمران نے 27 تاریخ کو اسلام آباد میں اپنے حامیوں کے انسانی سمندر کو دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں قوم نکلے اور دنیا کو بتائے کہ سچ کے ساتھ کھڑے ہیں، اچھائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بدھ کو سوات میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب میں عمران خان نے اپنی جماعت کے کارکنوں سے کہا کہ اسلام آباد آ کر بتائیں کہ وہ چوروں، ڈاکوؤں، منافقوں اور امریکہ کے غلاموں کے خلاف کھڑے ہیں۔
وزیراعظم کا اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ ’2008 سے 2018 تک یہ دو جماعتیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ اقتدار میں تھے تو پاکستان پر 400 ڈرون حملے ہوئے۔ ہماری عورتیں اور بچے مرے، بے قصور لوگ مرے، ہمارے لوگوں کے گھر برباد ہوگئے۔ امریکہ کی جنگ میں شرکت کر کے سوات کے لوگوں نے کتنی قربانیاں دیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کتنے لوگوں نے نقل مکانی کی، گھر اجڑ گئے لوگوں کے۔ تو یہ جو دو سربراہ تھے ملک کے کیا انہوں نے کبھی امریکہ کو یہ کہا کہ ایک طرف ہم تمہاری جنگ میں شرکت کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہم پر ہی بمباری کر رہے ہیں۔‘
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 35 سالوں میں جو تین تین بار وزیراعظم بنے کیا انہوں نے اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کے حوالے سے بات کی۔ جب نواز شریف پرچیاں پکڑ کر امریکی صدر کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے تو ایک پرچی اسلامو فوبیا کی بھی پکڑ لینی تھی، ایک کشمیر کی بھی پرچی پکڑ لینی تھی۔
عمران خان نے کہا کہ ’لیکن جو غلام لوگ ہوتے ہیں ان کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا، ایسے لوگ جن کا پیسہ خدا ہوتا ہے ان کی کانپیں ٹانگیں کی امریکی صدر کے سامنے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان امریکی صدر ہو یا دنیا کا کوئی بھی صدر ہو اس کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے جھکتا نہیں ہے۔

