عثمان مرزا ویڈیو سکینڈل کیس، شریک ملزم کے وکیل نے کیا کہا؟
دانش ارشاد، صحافی . اسلام آباد
ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں پراپرٹی ڈیلر عثمان مرزا کے خلاف نازیبا ویڈیو بنانے، تشدد اور بلیک میلنگ کیس میں ملزم حافظ عطاالرحمن کے وکیل صفائی کے دلائل مکمل ہو گئے۔
مرکزی ملزم سمیت دو ملزمان کے وکیل صفائی جمعرات کو دلائل پیش کریں گے۔
حافظ عطاالرحمن کے وکیل راجا شفقت عباسی عدالت پیش ہوئے اور دلائل میں عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل ویڈیو میں کچھ کرتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ کسی کے کپڑے پھاڑتے ہوئے یا تشدد کرتے نظر نہیں آ رہا اور نہ ہی میرے موکل کی کوئی آواز سنائی دے رہی ہے۔ وہ صرف جھگڑا کرنے والے فریقین کو چھڑاتے ہوئے نظر آتا ہے اور اسے دھکے بھی لگ رہے ہیں۔ جس پر جج عطا ربانی نے کہا کہ واقعی آپ کے موکل اور ایک دوسرے ملزم کی آواز نہیں سنائی دے رہی۔
وکیل شفقت عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ نومبر 2020 میں پیش آتا ہے اور جولائی2021 میں مقدمہ درج ہوتا ہے یعنی 8 ماہ بعد مقدمہ درج ہوا۔ جب ایف آئی آر درج ہوئی تو وہ کسی چشم دید گواہ نے درج نہیں کروائی۔ پھر پولیس کو کیسے علم ہوا کہ وہاں چار لوگ موجود تھے؟ کیا انہیں الہام ہوا تھا؟
صرف میڈیا میں آنے کی وجہ سے یہ مقدمہ درج ہوا اور عدالتیں میڈیا رپورٹس پر فیصلے نہیں دیتیں۔ پہلے جج اخبار پڑھتے تھے نہ ہی ٹی وی دیکھتے تھے۔ کیس ہمیشہ قانونی نکات کے مطابق دیکھا جاتا ہے کیونکہ ہم قانون کے غلام ہیں۔
اگر اسد کا 161 اور 164 کا بیان دیکھا جائے تو میرے موکل کیلئے کہا گیا کہ اس نے اسد سے پیسے لے کر اسے فلیٹ کی چابی دی۔ کیونکہ ان دنوں کرونا وبا کی وجہ سے ہاسٹلز بند تھے۔ لیکن جب رات گئے لوگ آ گئے اور جھگڑا ہوا تو اسد نے کال کر کے میرے موکل کو بلایا اور اس کے ویڈیو میں سامنے آنے کا وقت بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ میرے موکل کا شناختی کارڈ دیکھیں تو وہ وہاں کا مقامی ہے۔ اس لئے یہ فطری تقاضا ہے کہ جب ایسا کوئی وقوعہ ہو تو وہ وہاں جائے۔ اور DVR میں میرے موکل کے وہاں آنے کا وقت دیکھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ دیر سے وہاں پہنچا اور اس کے وہاں پہنچنے کا وقت سب کچھ بتا رہا ہے۔
اس لئے 161 اور 164 کی حد تک میرے موکل کا کوئی کردار نہیں بنتا۔
وکیل صفائی نے ایف آئی آر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ ایف آئی آر موقع پر نہیں ہوئی اس لئے اس کی وہ وقعت نہیں ہے جو وقوعہ ہونے کے فوری بعد ہوتی۔
اس کے ساتھ دفعات 354 اے لگائی گئی ہے جن میں میرے موکل کو کوئی کردار نہیں ہے۔ کیونکہ یہ دفعات عوامی جگہ یا کوئی منظر عوام کے دیکھے بغیر نہیں لگائی جا سکتی۔ چونکہ یہ بند کمرے کا واقعہ ہے اس پر 354A اپلائی نہیں ہو سکتا۔ اس پر انہوں نے کئی پرانے عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔
وکیل شفقت عباسی نے ایف آئی آر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کیس 354اے کا نہیں بلکہ سائبر کرائم کا بنتا ہے اور اس اسے ایف آئی اے کو بھی دیکھنا چاہیے تھا کہ ویڈیو کس نے بنائی اور کس نے وائرل کی؟ اس کیس میں سائبر کرائم کی دفعات کیوں نہیں لگائی گئیں؟ ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟ کیونکہ پراسیکیوشن صرف ویڈیو کو بنیاد بنا کر کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔
وکیل نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے "اشتیاق احمد مرزا” کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک کسی ویڈیو کی فرانزک رپورٹ ساتھ نہ ہو اسے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اس میں ٹمپرنگ ہو سکتی ہے۔ عدالت کو چاہیے کہ وہ ویڈیو بنانے والے اور وائرل کرنے والے کو بلائے۔ کیونکہ ویڈیو وائرل کرنے والا سورس ابھی تک سامنے نہیں آیا اور کیس میں ہلکا سا شک پورے کیس کو مشکوک بنا دیتا ہے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ اس کیس سے ان کے موکل کی تضحیک ہوئی۔ اس دوران ان کی والدہ کی موت واقع ہو گئی اور بوڑھا باپ عدالت میں کھڑا ہے۔
ملزم عطاالرحمن کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
جمعرات کو دو ملزمان کے وکیل دلائل دیں گے۔

