پاکستان

عثمان مرزا کیس میں پراسیکیوٹر، وکیل صفائی اور جج کا دلچسپ مکالمہ

مارچ 17, 2022

عثمان مرزا کیس میں پراسیکیوٹر، وکیل صفائی اور جج کا دلچسپ مکالمہ

دانش ارشاد، صحافی . اسلام آباد

ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی کی عدالت میں عثمان مرزا کے خلاف نازیبا ویڈیو بنانے، تشدد اور بلیک میلنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت شریک ملزم ادارس بٹ کے وکیل صفائی کے دلائل مکمل کئے جبکہ مرکزی ملزم عثمان مرزا کے وکیل ہفتہ کو دلائل پیش کریں گے۔

کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ادارس بٹ کے وکیل قاضی عادل پیش ہوئے اور دلائل دیے۔ وکیل قاضی عادل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل سے متعلق جو باتیں چالان میں بیان کی گئی ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ اگر ان کو درست مان بھی لیا جائے تو یہ چارج میرے موکل پر نہیں لگتا۔ ویڈیو بنا کر وائرل کرنا دفعہ 354A میں نہیں آتا۔ جس پر جج عطا ربانی نے کہا جی بالکل۔

وکیل صفائی نے کہا کہ لڑکا اسد اور اس کے ساتھ موجود لڑکی اپنے بیان سے منحرف ہو چکے ہیں تاہم اگر ان کے ابتدائی بیان کو مان بھی لیا جائے تو کوئی ان کو اٹھا کر فلیٹ میں نہیں لے گیا بلکہ وہ دونوں وقوعہ سے پہلے اپنی رضامندی سے وہاں موجود تھے۔اس لئے 342 میرے موکل پر چارج نہیں ہو سکتی۔ جنسی تشدد اور ڈاکہ کی دفعات ایک ہی وقت میں لگانا پولیس کا متضاد موقف ہے۔ پولیس نے عجیب کہانی بنائی اور اس میں دفعات شامل کرتی گئی۔ میرے موکل پر 375A کیسے لگ سکتا ہے؟ اگر لڑکی سے جنسی تعلق قائم کرنے والا اسد میرے موکل کے ساتھ جاتا تو پھر ہم پر 375 اے لگانے کی کوئی صورت بن سکتی تھی۔ لڑکا اور لڑکی کا پہلا بیان ہے کہ ملزمان انہیں کہہ رہے تھے کہ جنسی عمل کریں اور ہم نے کیا۔ میرے موکل نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی بنیاد پر 375 اے لگایا جائے۔ پولیس نے 375A کے ساتھ 509 میں بھی چارج کیا ہے۔ جب 375A لگایا تو 509 کیوں لگایا؟ یہ وہی بات ہوئی قتل کا مقدمہ بھی درج کیا جائے اور ساتھ ہی زخمی کرنے کی دفعات بھی لگائی جائیں۔ پولیس یہ کہہ رہی ہے کہ ریپ بھی کیا گیا ہے اور پھر جسم کو چھونے کی دفعات بھی لگائی جا رہی ہیں۔

وکیل صفائی نے ویڈیو میں نظر آنے والی صورتحال پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں سنائی دینے والی آوازیں میرے موکل کے وائس سمپلز سے مماثلت نہیں رکھتیں۔ ویڈیو میں جو گفتگو ہوئی اس کی چھ صفحات کی ٹرانسکرائب عدالت میں موجود ہے جس میں میرے موکل کی کوئی گفتگو نہیں ہے۔ میرے موکل کو ایک ایسی ویڈیو کی بنیاد پر ملزم نامزد کیا گیا ہے جو عدالت میں پیش ہی نہیں کی گئی ہے اور ایس ایچ او اسے Spy conversation کہتا ہے حالانکہ ویڈیو کیس میں کوئی ایسی چیز شامل نہیں ہو سکتی۔

وکیل کے مطابق اس کیس میں ایس ایچ او کا ایک اور کمال نظر آ رہا ہے کہ ایک بند کمرے کی ویڈیو دیکھ کر اسے جگہ کا علم ہو گیا۔ بند کمرے کی ویڈیو سے جگہ، ٹاور اور فلیٹ نمبر کا علم کیسے ہو گیا؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بند کمرے کی ویڈیو ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کو ملتی ہے اور وہ جائے وقوعہ اپنے علاقے میں تلاش کر لیتے ہیں۔ اور پھر ایس ایچ او نے یہ بھی کہا کہ وہ ویڈیو دیکھ کر کسی بندے کو نہیں پہچان سکے۔
اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس ویڈیو کو دیکھ کر وہ بندہ نہ پہچان سکے ہوں اسے دیکھ کر وہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ عجیب کیس ہے جہاں بند کمرے کی ویڈیو دیکھ کر جگہ پہلے ٹریس کی گئی اور بندے بعد میں ٹریس ہوئے۔

ویڈیو کی حیثیت پر مزید سوال اٹھاتے ہوئے وکیل صفائی نے کہا کہ رپورٹ کہتی ہے کہ ویڈیو ملزمان میں سے کسی کے موبائل سے اپلوڈ نہیں کی گئی۔ ہمیں 164 کے بیان پر بھی جرح نہیں کرنے دی گئی اور ایسا جان بوجھ کر کیا گیا حالانکہ وکٹم نے کہا ہے کہ انہوں نے 164 کا بیان ہی نہیں دیا۔ اب ایک اور پہلو کی طرف آتے ہیں وہ ویڈیو کی حیثیت سے متعلق ہے۔ جس شخص نے ویڈیو کے درست ہونے کی تصدیق کی ہے اس نے اپنی رپورٹ میں چار بنیادی چیزوں کی نشاندہی کی ہے۔
1۔ ویڈیو بنانے والے کا علم نہیں ہے۔
2۔ ویڈیو کی وقت اور تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا۔
3۔ اصل ویڈیو ٹریس نہیں ہو پائی۔
4۔ ویڈیو کو کمپریس کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے پکسل پورے نہیں ہیں۔ اور کمپریس ہونے والی ویڈیو کی تصدیق کم ہی ہوتی ہے۔
ویڈیو بننے کے وقت، تاریخ اور لوکیشن کی درست معلومات کیلئے اوریجنل ڈیوائس جس سے ویڈیو بنائی گئی ہو وہ چاہئیے تاکہ ویڈیو کو درست مانا جائے۔ موجودہ حالت میں موجود ویڈیو کی جانچ کے کئی عناصر غائب ہیں اس لئے اس پر relay نہیں کیا جا سکتا۔

ملزم ادارس بٹ کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کی سماعت ہفتہ 19 مارچ تک ملتوی کر دی۔ مرکزی ملزم عثمان مرزا کے وکیل 17 مارچ کو دلائل دیں گے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عثمان مرزا کیس کے دوران جج، پراسیکیوشن اور وکیل صفائی کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔

وکیل صفائی نے 134 کے چارج پر دلائل دینے شروع کئے تو جج عطا ربانی نے کہا جہاں 5 سے زیادہ ملزم ہوں وہاں 134 کا چارج نہیں لگتا۔ اس کے ساتھ پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ 377 کا چارج کیسے لگا ہے؟ وکیل صفائی نے کہا ویڈیو کے سامنے آنے کی وجہ سے لگا۔ جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت نے لگایا ہے۔

وکیل صفائی نے کہا عدالت نے نہیں پولیس نے لگایا ہے۔ اگر عدالت نے بھی لگایا ہو تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ عدالت نے درست چارج لگایا ہے۔ جس پر جج نے ریمارکس دیے اگر ایسے "چارج کو درست” کہیں گے تو سیدھا جیل جائیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے