ارشد شریف قتل کا کھرا دو شخصیات کی طرف جاتا ہے: وزیر داخلہ
پاکستان کے وزیرِداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ صحافی ارشد شریف شہید کا معاملہ دو لوگوں کی طرف جاتا ہے،میں الزام نہیں لگا رہا لیکن باری النظر میں جو شواہد سامنے آ رہے ہیں اس کے تانے بانے عمران خان اور سلمان اقبال کی طرف جا رہے ہیں۔
جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِداخلہ نے کہا کہ چھان بین کا عمل جاری ہے حقائق قوم کے سامنے لائیں گے،کینیا میں فارم ہاؤس کس کا ہے؟خرم اور وقار کا نام لیا جا رہا ہے،خرم اے آر وائی کا ملازم ہے،وقار نامی شخص کا کردار بھی سامنے لایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان قوم کا ناسور بن چکا ہے جو جھوٹے بیانیے بنا کر قوم کو گمراہ کر رہا ہے۔ اگر آرمی چیف غیرمعینہ مدت تک توسیع کی پیشکش قبول کر لے تو تعریفیں اور اگر انہوں نے اپنی ذات پر ادارے کو ترجیح دی اور تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لئے سیاست میں ملوث نہیں ہوئے تو پھر میر جعفر صادق اور غدار،اگر کوئی اس کے مفادات کے مطابق کام کرے تو ٹھیک ورنہ غدار ہے۔ اس شخص کو دیکھیں جو منفی کردار ادا کر رہا ہے۔ کسی بھی قوم میں اگر ایسا ناسور ہو گا تو کوئی سدھار نہیں آ سکتا ہے جب تک ایسے فتنے کا قوم قلع قمع نہ کرے۔
اگر ادارہ اس کے لئے چیئرمین سینٹ کا الیکشن مینج کرے تو ٹھیک اگر یہ کام کوئی نہ کرے تو وہ غدار ہے۔سائفر پر بھی عمران خان نے کھیل کھیلا اور یہ نہیں سوچا کہ ملک و قوم کا کتنا نقصان ہو گا۔
رانا نا اللہ نے کہا کہ عمران خان نے کل بھی منفی پروپیگنڈہ کیا کسی بھی بار یا جامعہ میں گیا تو وہاں کہا کہ پنجاب حکومت ناکام ہے اسلئے نہیں کہ غریبوں کو ریلیف فراہم نہیں کر رہی بلکہ پنجاب حکومت جھوٹے مقدمات نہیں بنا رہی۔عمران خان نفرت کی سیاست اور قوم کو تقسیم کر رہے ہیں۔سائفر معاملے میں بھی آڈیو لیک سے اس کا گھناؤنا چہرہ سامنے آیا اور آج پھر اس کا مکروہ چہرہ سامنے آ رہا ہے۔
وزیرِداخلہ نے کہا کہ ارشد شریف شہید کی المناک شہادت ہے اس پر جو حقائق سامنے آئے کہ اسے زبردستی باہر بھجوایا گیا،ارشد شریف کو کس نے ڈرایا؟کے پی حکومت نے تھریٹ الرٹ جاری کیا،وہ نمائشی ٹھریٹ تھا،اس الرٹ میں کہا گیا کہ طالبان نے پلان بنا لیا کہ آپ کو اسلام آباد کے گردو نواح میں قتل کر دیا جائے گا۔
پھر دبئی سے اسے کینیا بھیجا گیا وہاں سے جو چیزیں سامنے آئی ہیں تصدیق کا عمل جاری ہے جس کے بعد تمام حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پر امن احتجاج ہر جماعت کا حق ہے لیکن اسے خونی مارچ کون کہہ رہا ہے،آئین و قانون مطابق احتجاج کریں گے سہولت دیں گے لیکن کسی جتھے کو ملکی معیشت تباہ کرنے کی اجازت نہیں گے۔

