عمران خان کا کنٹینر پر سوار ہوتے ہی پہلا خطاب سینسر
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کاکنٹینر پر چڑھتے ہی پہلا خطاب ہی ٹی وی چینلوں پر سینسر ہو گیا۔ عمران خان نے ریاستی اداروں کو سخت پیغام دیا۔
عمران خان نے کہاہے کہ لاہور سے آج اپنی سیاسی جدوجہد سب سے اہم سفر شروع کر رہا ہوں ،میرا مقصد ہے کہ قائداعظم نے ہمیں انگریزوں سے آذاد کیا تھا، وقت آ گیا ہے کہ حقیقی آذادی کا سفر شروع کریں۔
یہ مارچ الیکشن یا ذاتی مفادات کے لئے نہیں ،میرا مقصد قوم و ملک کو آذاد کرانا ہے۔ اس ملک کے فیصلے لندن یا واشنگٹن میں نہ ہوں ،نہ ہم امریکی جنگ لڑیں اور ہمارے لوگ مارے جائیں۔ ایسا ملک دیکھنا چاہتا ہوں جہاں میرے لوگ آذاد ہوں ،انصاف ہو ،لوگوں ہر ظلم نہ ہو۔ تھانے اور پٹوار خانوں میں عام لوگ دھکے کھاتے ہیں۔ ہمارے لوگ آج پاکستان میں تماشا دیکھ رہے ہیں۔ سب سے ذیادہ مہنگائی اس امپورٹڈ حکومت نے کی ہے۔ میں آج اعظم سواتی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اس نے تشدد کو ننگا کرنے والے دو آفیسرز فہیم اور فیصل کا نام لیا ہے(یہاں آواز ٹی وی چینلوں پر آوازبند ہو گئی)
عمران خان نے کہا کہ اعظم کو سواتی کو غیر قانونی طور پر اٹھایا،پوتے اور پوتیوں کے سامنے تشدد کیا۔ پھر انہیں فہیم اور فیصل کے سہولت کاروں کو پکڑا یا گیا تشدد کیا گیا۔ یہی فہیم اور فیصل کے لوگوں نے شہباز گل کو ننگا کیا۔
آج جنرل باجوہ آپ سے پوچھتا ہوں جب نے بلاول نے کراچی میں آئی ایس آئی(پھر آواز بند کر دی گئی)
عمران خان نے کہا کہ فیصل اور فہیم جیسے آفیسر جب ظلم کرتے ہیں (سینسر)
عمران خان نے کہا کہ پریس کانفرنس کی تو چوروں کے ٹولے کا ذکر کیوں نہ کیا،ڈی جی آئی ایس ایس کان کھول کے سن لو(سینسر)
عمران خان نے کہا کہ میں نہیں چاہتا میرے ملک کے ادارے کمزور ہوں۔
عدلیہ سے کہتا ہوں سپریم کورٹ نے جن جگہ علاقوں میں اجازت دی ہے وہاں تک جائیں گے پرامن احتجاج ہو گا۔ فیملیز ہیں عورتیں ہیں بچے ہیں۔

