وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر دو فوجی افسران کی برطرفی کالعدم قرار
لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر دو فوجی افسران کی بذریعہ انتظامی حکم برطرفی کالعدم قرار دے دی۔
درخواست گزاروں بریگیڈیئر شفیق اور کیپٹن عرفان کو فوج کی جانب سے انتظامی حکم نامے کے زریعے،بغیر کسی چارج شیٹ اور وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری نے اعتراف کیا کہ مصطفی امپیکس کیس کی روشنی میں فوجی حکام نے وفاقی حکومت کی منظوری حاصل نہیں کی۔
عدالت عالیہ نے مذکورہ دونوں افسران کی برطرفی کالعدم قرار دے دی۔
درخواست گزاروں کی جانب سے بریگیڈیئر(ر)واصف اور کرنل(ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ دونوں افسران کو حکومت کی منظوری کے بغیر انتظامی حکم سے برطرف کیا گیا جو کہ قواعد و ضوابط کی صریحا خلاف ورزی ہے۔انہوں نے جاندار دلائل دیتے ہوئے عدالتی نظائر بھی پیش کئے.
27 مئی 2019 کو فوج کی جانب سے یہ غیرقانونی برطرفی کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا.

