پاکستان کا گرومنگ گینگ کے سربراہ کو واپس لینے سے انکار، ’یہ برطانیہ کا داخلی معاملہ ہے‘
پاکستان نے گرومنگ گینگ کے سربراہ کو واپس لینے سے باضابطہ انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ برطانیہ کا داخلی معاملہ ہے‘
جمعرات کو پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ شبیر احمد کے ’گھناؤنے جرائم اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے بیرونی اسباب تلاش کرنے کے بجائے سنجیدہ نوعیت کی خود احتسابی کی جائے۔‘
انھوں نے اسے ’برطانیہ کا داخلہ معاملہ‘ قرار دیا اور کہا کہ ‘اس معاملے سے حکومتِ پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔‘
عمر رسیدہ شبیر احمد ایک ایسے گرومنگ گینگ کے سربراہ تھے جس نے 12 سال تک کی کم عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا اور حال ہی میں قید مکمل کر کے رہا ہوئے ہیں-
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان سے شبیر احمد کی حوالگی سے متعلق سوال کی گیا جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ متعلقہ فرد ایک برطانوی شہری ہے، جس نے اپنی پوری بالغ زندگی برطانیہ میں گزاری، جرم کا ارتکاب بھی اس نے برطانوی سر زمین پر کیا اور اسے سزا بھی ایک برطانوی عدالت نے سنائی۔
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ شبیر احمد ’چاہے کہیں بھی پیدا ہوئے ہوں، اصل ذمہ داری اس جگہ پر عائد ہوتی ہے جہاں وہ پلے بڑھے، جہاں ان کی تربیت ہوئی، اور جہاں بد قسمتی سے وہ بگڑ گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ایک فرد کی رہائی یا بعد ازاں برطانوی قانون کے تحت اس کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے متعلق کسی بھی فیصلے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔
شبیر احمد کو برطانیہ سے نکالنے کے مطالبات پر برطانوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ نو عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے گروہ کے سرغنہ کو پاکستان بھجوانے کے لیے قانون تبدیل کرے گی۔
برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے اس ہفتے کہا کہ 1971 کا قانون برطانیہ میں طویل عرصے سے مقیم افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن ’شبیر احمد جیسے کیسز میں اسے ملک بدری کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
برطانوی وزارتِ داخلہ تسلیم کر چکی ہے کہ شبیر احمد کی بے دخلی کا انحصار پاکستان کے انھیں قبول کرنے پر ہے۔
نوعمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے گروہ کے سرغنہ شبیر احمد ایک برطانوی شہری ہیں۔