ٹرمپ انتظامیہ کا غیر ملکی طلبہ کے ویزا نظام میں بڑی تبدیلی کا اعلان، ’مدتِ قیام‘ کی پالیسی ختم
واشنگٹن: امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی (DHS) نے غیر ملکی طلبہ، ایکسچینج وزیٹرز اور غیر ملکی میڈیا نمائندوں سے متعلق ویزا قواعد میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایک حتمی ضابطہ (Final Rule) جاری کر دیا ہے، جس کے تحت کئی دہائیوں سے رائج “Duration of Status” یعنی غیر معینہ مدت تک قیام کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔
محکمہ برائے داخلی سلامتی کے مطابق نئے ضابطے کے تحت F (طلبہ)، J (ایکسچینج وزیٹرز) اور I (غیر ملکی میڈیا نمائندگان) ویزا رکھنے والوں کو اب غیر معینہ مدت کے بجائے ایک مقررہ مدت کے لیے امریکہ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امیگریشن نظام کی شفافیت کو بہتر بنانا، ویزا کے غلط استعمال کی روک تھام کرنا اور قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ڈی ایچ ایس کے سیکریٹری مارک وین ملن نے کہا کہ تقریباً نصف صدی سے رائج “Duration of Status” نظام نے قومی سلامتی کو متاثر کیا اور امیگریشن فراڈ کے لیے ماحول پیدا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی غیر ملکی طلبہ مسلسل نئے کورسز میں داخلہ لے کر برسوں امریکہ میں قیام کرتے رہے، جس سے امیگریشن قوانین کا غلط استعمال ہوا۔
نئے قواعد کے مطابق F اور J ویزا رکھنے والوں کو ان کے تعلیمی یا ایکسچینج پروگرام کی مدت تک قیام کی اجازت ہوگی، تاہم یہ مدت زیادہ سے زیادہ چار سال ہوگی۔
اگر کسی طالب علم کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہو تو اسے براہِ راست امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (USCIS) سے Extension of Stay (EOS) کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ درخواست گزاروں کو بائیومیٹرک تصدیق، پس منظر کی جانچ (Background Check) اور فراڈ اسکریننگ سمیت وفاقی جانچ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔
حتمی ضابطے کے تحت F-1 طلبہ کو گریجویشن کے بعد امریکہ چھوڑنے، تعلیمی ادارہ تبدیل کرنے یا ویزا اسٹیٹس تبدیل کرنے کے لیے دی جانے والی مہلت بھی 60 دن سے کم کر کے 30 دن کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ تعلیمی پروگرام تبدیل کرنے کے حوالے سے بھی نئی سخت پابندیاں متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ ویزا کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
https://x.com/dhsgov/status/2077800331048554581?s=46
ڈی ایچ ایس کے مطابق یہ حتمی ضابطہ آئندہ چند روز میں فیڈرل رجسٹر میں شائع ہوگا اور اشاعت کے 60 دن بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔
محکمے نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکہ میں “Duration of Status” کے تحت مقیم طلبہ اور دیگر متعلقہ ویزا ہولڈرز خودکار طور پر نئے نظام میں منتقل ہو جائیں گے، اور ان کے مجاز قیام کی مدت بھی نئے قانون کے نفاذ کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ چار سال تک محدود ہوگی۔
امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی کے مطابق اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام (SEVP) بین الاقوامی طلبہ، تعلیمی اداروں اور وفاقی حکومت کے درمیان رابطے کا نظام ہے، جو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے تحت کام کرتا ہے اور Student and Exchange Visitor Information System (SEVIS) کے ذریعے بین الاقوامی طلبہ اور تعلیمی اداروں کی نگرانی کرتا ہے۔

