امریکی ریاست نیو جرسی میں ہزاروں غیرملکیوں نے الیکشن کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیے؟
ریاست نیو جرسی کے تقریباً 400 رہائشی جو امریکی شہری بھی نہیں تھے، انہوں نے عام انتخابات کے دوران ووٹ کاسٹ کیے تھے۔
ریاست کے ڈیموکریٹک گورنر مکی شیرل نے منگل کو بتایا کہ 2023 اور 2024 کے درمیان سافٹ ویئر کی خرابی کی وجہ سے 2023 اور 2024 کے دوران ووٹ ڈالنے کے لیے ہزاروں غیرشہریوں کے غلطی سے رجسٹر ہونے کے بعد انہوں نے ووٹ پول کیے۔
وائٹ ہاؤس نے اس واقعے کو ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دیرینہ دعوے کے لیے استعمال کیا جس میں اُن کا کہنا کہ غیر شہریوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا گیا تھا، تاہم انہوں نے ثبوت پیش نہیں کیے۔
اس کی تحقیق اور مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں اور اکثر دھوکہ دہی کے ارادے کی بجائے غلطی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس دعوے پر زور دیا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کو ملتوی کیا جا سکتا ہے جب تک کہ سخت حفاظتی اقدامات نہ اپنائے جائیں، گزشتہ جمعرات کو انہوں نے پرائم ٹائم تقریر کی جس میں انتخابی تحفظ پر توجہ مرکوز کی گئی۔
صدر اور ان کے اتحادیوں کا دعویٰ ہے کہ ڈیموکریٹس غیرشہری ووٹنگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، حالانکہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔
وہ کانگریس کے ریپبلکن ممبران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ‘امریکہ کو محفوظ بنائیں’ قانون پاس کریں، جس کے تحت امریکیوں کو ووٹ دینے کے لیے اندراج کرتے وقت شہریت کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔
ڈیموکریٹس، جنہوں نے اب تک سینیٹ میں اس بل کو روک دیا ہے، اور ووٹنگ کے حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد جائز ووٹروں، خاص طور پر نوجوان ووٹرز، اور کم آمدنی والے کارکنوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا ہے جن کے پاس مطلوبہ دستاویزات کی کمی کا زیادہ امکان ہے۔

