جعلی شناختی کارڈ بنانے کے الزام میں نادرا کے چار اہلکار گرفتار کیے ہیں: ایف آئی اے
پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مشترکہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغان شہریوں کے لیے غیر قانونی طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔‘
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں انعام الحق (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، نادرا)، فیاض احمد (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر، نادرا)، جنید احمد (چوکیدار، نادرا) اور محمد عمر شاہ (پرائیویٹ ایجنٹ) شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض احمد کی گمشدگی کا مقدمہ کراچی پولیس نے ان کے والد سہیل سانگی کی مدعیت میں درج کیا تھا۔ اس مقدمے کے مطابق ریاض احمد 20 جولائی کی شام سے لاپتہ ہیں۔ ان کے والد نے یہ شبہ ظاہر کیا تھا کہ انھیں نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
ایف آئی اے کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا، سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کاری میں ملوث تھے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے ابتدائی شواہد سے اس منظم نیٹ ورک کے بعض دہشت گرد عناصر سے ممکنہ روابط کی بھی نشاندہی ہوئی ہے، جس کے حوالے سے مزید جامع تحقیقات جاری ہیں۔‘
ایف آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ’کارروائی کے دوران اہم ریکارڈ، ڈیجیٹل مواد اور دیگر شواہد تحویل میں لے لیے گئے ہیں، جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔‘ ایف آئی اے کے مطابق تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات اور گرفتاریوں کا امکان ہے اور اس نیٹ ورک سے وابستہ تمام سہولت کاروں اور مرکزی کرداروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی کو درپیش خطرات، دہشت گردی کی معاونت، جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا اور ایسے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔‘
تاہم ایف آئی اے نے اپنے بیان میں قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے نام اور تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں۔

