اہم

حوثیوں کے حملوں کی مذمت، سعودی عرب کے ساتھ ہیں: پاکستانی وزیراعظم کا ولی عہد کو فون

جولائی 23, 2026

حوثیوں کے حملوں کی مذمت، سعودی عرب کے ساتھ ہیں: پاکستانی وزیراعظم کا ولی عہد کو فون

سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہازوں پر یمن کے حوثیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’اس نازک وقت میں وہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔‘

پاکستانی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انھوں نے ’جمعرات کی صبح سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔‘

بیان کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’اس نوعیت کی کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘

وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف نے ’سعودی عرب کی سلامتی، خود مختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔‘

بیان کے مطابق شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں قانونی سمندری تجارت کے بلا تعطل بہاؤ، امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے سعودی عرب اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

پاکستان نے بدھ کو بھی حوثی گروہ کو خبردار کیا تھا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے بحری مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات، بشمول قانون کے مطابق طاقت کے استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

بیان میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’ایسے اقدامات علاقائی سلامتی، جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔‘

دفترِ خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ساتھ ہی تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور بحری جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے