جب شاعر تجزیہ کار بن جائیں اور پرائے ابّا جی، امتیازاحمد وریاہ کا کالم
جب آپ شاعر سے اٹھ کر تجزیہ کار ہوجائیں،شاعری کے انداز میں تخیئل سے لبریز گفتگو کرنے لگ جائیں تو پھر بڑے پُرلطف تجزیے زبان مبارک سے پھوٹتے ہیں۔ایسے،ویسے تجزیے کہاں آپ نے پڑھے سنے ہوں گے۔
ایک شاعر جی کا سیاسی تجزیہ سن کر دل چسپ واقعہ یاد آیا۔یہ ہمیں ڈاکٹر انور سدید صاحب مرحوم نے سنایا تھا۔ روزنامہ خبریں لاہور کے شعبہ ادارت میں جب وہ اپنے روزمرہ تفویض کار سے فارغ ہوجاتے تو پھر ہمیں زندگی کے دل چسپ واقعات سے لطف اندوز کیا کرتے تھے۔وہ اکادمی ادبیات پاکستان کے ان منصفین میں شامل تھے جو ہر سال ادیبوں اور شاعروں کو ادبی انعامات سے نوازنے کا فیصلہ کرتی تھی۔ہر سال ملک بھر سے ادیب ، شاعر اور مترجمین اپنی نگارشات، مجموعہ ہائے کلام اور تراجم اس مقابلے میں پیش کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اکادمی کے پاس ایک شاعرصاحب ہرسال اپنا مجموعہ کلام اس مقابلے میں شرکت کے لیے بھیجتے تھے اور وہ ہماری نظر سے گزرتا تھا۔ایک سال ایسا ہوا کہ اس شاعر کا کوئی شعری مجموعہ انعامی مقابلےکے لیے موصول نہیں ہوا تو منصفین بڑے حیران اور فکرمند ہوئے۔انھیں فکر لاحق ہوئی۔ایک ممتاز ادیب بولے اکادمی کو اس شاعر کا پتا کرانا چاہیے،ان کی خیریت دریافت کرنی چاہیے ، خدا نخواستہ طبیعت تو ٹھیک ہے۔انھیں کیا ہوا ، تھوک کے حساب سے اترنے والے شعروں کی آمد تو نہیں رک گئی کیونکہ پہلے تو وہ گذشتہ کئی سال سے بلاتعطل اپنا شعری مجموعہ جائزے کے لیے بھیج رہے تھے۔
المختصر،ماضی میں ہمارے یہ شاعر صاحب کہ نام نامی اسمِ گرامی جن کا فرحت عباس شاہ ہے، خرگوش کے بچے جننے کی طرح ہر چوتھے، پانچویں مہینے ایک شعری مجموعہ جَن رہے تھے۔یہ مدت تھوڑی ہے تو کسی غریب کے ہر سال بچہ جننے کی طرح کہہ لیں، وہ تو شاید پھر بھی کسی سال وقفہ کرلیتا ہو لیکن ہمارے شاعر صاحب ہرسال ایک آدھ شعری مجموعہ ضرور جنتے تھے۔آج کا ہمیں معلوم نہیں آمد کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے یا شاعری عمر ڈھلنے پر بانجھ پن کا شکار ہو گئی ۔البتہ ’’کتاب چہرہ‘‘ کے طفیل قارئین اور صارفین کو ان کے ملفوظاتِ عالیہ روزانہ ہی پڑھنے اور سننے کا موقع مل رہا ہے۔کبھی وہ کسی معروف شاعر کے لتے لے رہے ہوتے ہیں کہ اس نے فلاں کی زمین میں شعر کیوں کَہ دیا اور اس کا تو فلاں شعر ،فلاں شاعر کے فلاں اور فلاں شعر کا چربہ ہے۔جناب شاعر جنوب نے شاعر شمال کی فلاں اور فلاں غزل سرقہ کرکے اپنے کلام میں سما لی ہے۔
ویسے یہ شعروشاعری بھی ایک پورا دھندا ہے اور بڑا نفع بخش ہے بلکہ کمال اور جمال بھی اس کے جلو میں چلے آتے ہیں۔لوگ اپنی حس ِجمالیات کو بروئے کار لاتے اور نازنین ہائے وطن کے نام اپنے پورے پورے مجموعہ کلام کردیتے ہیں۔شاعر مشہور ہوتے ہیں اور شہر شہر ، قریہ قریہ بنی انجمن ہائے ستائش باہمی ان کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرتی ہیں۔کوئی مال دار اسامی اور اعلیٰ سرکاری یا سیاسی عہدے دار وہاں مہمانِ خصوصی یا مہمانِ اعزاز ہوتا ہے۔بعضے تو ایسے کم سواد ہیں کہ کسی غیر معروف شاعر کا کلام اپنے نام چھپوا لیتے ہیں اور اس کو چند ہزار روپے دے کر ٹرخا دیتے ہیں۔وہ اصل تخلیق کار بے چارہ گم نام ہی مرجاتا ہے۔شاعری ہی پر کیا موقوف ، نثر میں بھی وارداتوں کا یہی عالم ہے اور اب تو مصنوعی ذہانت کے ٹولز نے ان سرقہ بازوں کا کام اور بھی آسان کردیا ہے۔بعضے تو ایسے سست الوجود واقع ہوئے ہیں کہ وہ چیٹ جی پی ٹی یا کسی اور ٹول کی مدد سے لکھوائی گئی نثر کی علامات اور اشارات تک حذف کرنے کی کوشش نہیں کرتے، بالکل اس نشئی کی طرح ، جس کا مُنھ کتا چاٹ رہا تھا اور وہ اپنے دوسرے ساتھی کو اسے ہٹانے کا کَہ رہا تھا اور دوسرا یہ جواب دے رہا تھا:’’تم نے میرے پیٹ پر پڑے بیر کو اٹھا کر میرے مُنھ میں ڈالا تھا کیا۔
ایسے ہی ایک ادیب کا قصہ بھی ڈاکٹر أنور سدید صاحب نے سنایا۔کراچی سے اس کا تعلق تھا۔گزرے زمانے میں پڑوسی ملک بھارت میں چھپنے والی کتب کراچی پہلے پہنچ جاتی تھیں کیونکہ بھائیوں کا آنا جانا جو لگا رہتا تھا۔اب یہ ادیب ایسی کتب کی ٹوہ میں رہتے اور جیسے ہی کتاب ہاتھ لگتی ،اس کی ٹریسنگ بنواتے اور اپنے نام سے چھپوا لیتے بلکہ پرنٹر ،پبلشر کے حوالے ایسے ہی کر دیتے اور صرف اس ہندوستانی مصنف کی جگہ اپنا نام لکھ دیتے۔
ایسی ہی ایک واردات میں بڑی مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوگئی۔ہوا یوں کہ کسی کتاب کے بالکل درمیان میں اصل مصنف نے اپنے والد صاحب کی تصویر دی ہوئی تھی اور کیپشن میں یہ لکھا تھا: مصنف کے والد گرامی، آگے ان کا نام تھا۔
کتاب جب چھپ کر کراچی والوں کے ہاتھ لگی تو پھر جو لوگ اس جعلی مصنف جی کو جانتے تھے،انھیں فون کرنے لگے اور ان سے یہ دریافت کرتے،جناب کے ابّا جی کب تبدیل ہوگئے۔ان کی شکل وصورت تو اور طرح کی ہے اور کتاب میں جن کی تصویر چھپی ہے ، یہ تو کسی اور کے ابّا جی ہیں۔
ہیں جی۔ ادب کی دنیا میں ایسے بھی ہوتا ہے۔پیارے پاکستان کی سیاست میں تو ابّا جی تبدیل کرنے کا چلن عام ہے۔ادب میں بھی ایسی وارداتیں ہوتی رہی ہیں۔

