اہم خبریں

عمانی سمندر میں‌ 8 لاکھ بیرل روسی تیل والے ٹینکر کا آئل دو ہزار مربع کلومیٹر تک پھیل گیا

اگست 13, 2026

عمانی سمندر میں‌ 8 لاکھ بیرل روسی تیل والے ٹینکر کا آئل دو ہزار مربع کلومیٹر تک پھیل گیا

تقریباً آٹھ لاکھ بیرل روسی تیل لے جانے والا ٹینکر کیرولین بیزینگی 30 جون کو یمن کے قریب ساحل سے ٹکرا کر پھنس گیا تھا جس سے رسنے والے آئل نے اب سمندر میں‌ دو ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے کو متاثر کیا ہے- اس بحری ٹینکر پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

اس سے تیل ایک ایسے جزیرے کے قریب رس رہا ہے جو عمان کے سمندری قدرتی محفوظ علاقے کا حصہ ہے۔ اس علاقے میں نایاب جنگلی حیات پائی جاتی ہے جن میں بحیرۂ عرب کی ہمپ بیک وہیل اور سوکوٹرا کارمورینٹ پرندے شامل ہیں۔

عمان کی ماحولیاتی ایجنسی نے بدھ کو تصدیق کی کہ ایک آئل ٹینکر سے رسنے والا تیل پھیل کر عمان کے ساحلی علاقوں تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ کئی ہفتوں سے پھیل رہا یہ تیل حالیہ برسوں کے بدترین سمندری ماحولیاتی بحرانوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔

ایجنسی کے مطابق یہ تیل عمان کے ساحل کی تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) طویل پٹی کو متاثر کر سکتا ہے، جس میں رأس المدرکہ کا علاقہ اور جزیرہ مصیرہ بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کو حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے والے تیل کے رساؤ کے ماہر جان ایموس کے مطابق تیل اب 2,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے تک پھیل چکا ہے۔

ٹینکر نے پہلی بار آٹھ جون کو اطلاع دی تھی کہ اسے یمن کے ساحل کے قریب مشکلات کا سامنا ہے۔ بحری ذرائع کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹینکر کو کسی دھماکے سے نقصان پہنچا ہے۔

اب تک کسی فریق نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

یہ جہاز اپریل میں بحیرۂ اسود پر واقع روسی بندرگاہ نووروسیسک سے روانہ ہوا تھا، جو روس اور یوکرین کی جنگ کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ یوکرین روسی تیل لے جانے والے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف حملے کر چکا ہے، اور کیرولین بیزینگی بھی اسی بیڑے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے