امریکی میں 1000 جعلی شادیوں کے ذریعے امیگریشن فراڈ، 11 افراد پر فردِ جرم
واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف نے تقریباً ایک دہائی تک جاری رہنے والی مبینہ امیگریشن فراڈ سکیم میں 11 افراد کے خلاف الزامات عائد کیے ہیں، جس کے تحت تقریباً ایک ہزار جعلی شادیاں کروا کر زیادہ تر چینی شہریوں کو امریکا میں قانونی امیگریشن اسٹیٹس حاصل کرنے میں مدد دی گئی۔
وفاقی عدالت میں سامنے آنے والی فردِ جرم کے مطابق، غیر ملکی شہری مبینہ طور پر چھ سہولت کاروں کے گروپ کو امریکی شہریوں کے ساتھ جعلی شادی کا انتظام کرنے کے لیے فی کس ایک لاکھ ڈالر تک ادا کرتے تھے، جبکہ شادی پر رضامند ہونے والے امریکی شہریوں کو 30 ہزار ڈالر تک دیے جاتے تھے۔
استغاثہ کے مطابق شادی کے بعد سکیم میں شامل افراد امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو امیگریشن دستاویزات جمع کرانے میں بھی مدد فراہم کرتے تھے، تاکہ متعلقہ غیرملکی شہری قانونی مستقل رہائش (گرین کارڈ) حاصل کرسکیں۔
اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے اسے امریکی تاریخ میں شادی کے ذریعے امیگریشن فراڈ کے سب سے بڑے مقدمات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ظاہر کرتا ہے کہ بعض افراد امریکی امیگریشن نظام کو دھوکہ دینے کے لیے کس حد تک جاسکتے ہیں۔
یہ کارروائی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن قوانین کے نفاذ اور مبینہ “برتھ ٹورازم” کے خلاف اقدامات مزید سخت کررہی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی بدھ کو اعلان کیا کہ ویزا رکھنے والے افراد کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے اقدامات شروع کیے گئے ہیں، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں خواتین پر صرف بچے کو امریکی شہریت دلانے کے مقصد سے امریکا آنے کا شبہ ہو۔
ٹرمپ کے نئے ایگزیکٹو آرڈرز، ’برتھ ٹورازم‘ کے خلاف کریک ڈاؤن اور پیدائشی شہریت محدود کرنے کی نئی کوشش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں نام نہاد ’برتھ ٹورازم‘ (Birth Tourism) کے خلاف کارروائی سخت کرنے اور بعض مخصوص حالات میں امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار شہریت دینے کے دائرہ کار کو محدود کرنے کے لیے دو نئے ایگزیکٹو آرڈرز جاری کردیے ہیں۔
نئے احکامات ٹرمپ انتظامیہ کی Birthright Citizenship یعنی پیدائشی شہریت سے متعلق پالیسی کو محدود کرنے کی تازہ کوشش ہیں۔ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت عمومی اصول یہ ہے کہ امریکا میں پیدا ہونے والا شخص امریکی شہری تصور ہوتا ہے، تاہم اس اصول کی چند قانونی استثنائیں پہلے سے موجود ہیں۔
پہلے ایگزیکٹو آرڈر میں کیا ہے؟
نئے حکم کے تحت بعض ایسے غیر ملکی والدین کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کی خودکار شہریت محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے جہاں دونوں والدین امریکی شہری نہ ہوں اور ان میں سے کسی ایک کا تعلق مخصوص زمروں سے ہو۔
ان زمروں میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم سے مبینہ وابستگی، کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام کرنا، دھوکہ دہی کے ذریعے امریکی شہریت حاصل کرنے کی کوشش یا ایسے امریکی علاقوں میں رہائش شامل ہے جہاں وفاقی قانون کے تحت پیدائشی شہریت کا حق حاصل نہیں۔
امیگریشن ماہرین کے مطابق خصوصاً دہشت گرد تنظیم سے وابستگی والی شق قانونی سوالات پیدا کرسکتی ہے، کیونکہ یہ واضح ہونا ضروری ہوگا کہ کسی شخص کی ایسی تنظیم میں رکنیت یا وابستگی کا تعین کون اور کس معیار کے تحت کرے گا۔
’برتھ ٹورازم‘ کے خلاف دوسرا حکم
دوسرے ایگزیکٹو آرڈر میں محکمہ خارجہ اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو برتھ ٹورازم کے خلاف ضوابط اور نفاذ مزید سخت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
برتھ ٹورازم سے مراد ایسی صورتحال ہے جس میں کوئی غیرملکی خاتون بنیادی طور پر امریکا میں بچے کو جنم دینے کے مقصد سے ملک میں داخل ہو تاکہ بچے کو امریکی شہریت حاصل ہوسکے۔
امریکی حکومت پہلے ہی صرف بچے کو جنم دینے کی غرض سے سیاحتی ویزا پر امریکا آنے کو قانونی طور پر محدود کر چکی ہے۔ نئے حکم میں ایسے کاروبار اور نیٹ ورکس کے خلاف بھی سخت کارروائی پر زور دیا گیا ہے جو غیرملکیوں کو امریکہ میں بچے کی پیدائش کے لیے سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
امریکہ میں پیدائشی شہریت کیسے ملتی ہے؟
امریکا میں Jus Soli، یعنی “Right of the Soil” کا اصول 14ویں آئینی ترمیم سے منسلک ہے۔ موجودہ نظام کے تحت والدین کی امیگریشن یا شہریت کی حیثیت سے قطع نظر امریکہ میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام بچوں کو امریکی شہریت حاصل ہوتی ہے، تاہم غیر ملکی سفارت کاروں کے بچوں سمیت چند استثنائیں موجود ہیں۔
پورٹو ریکو، گوام اور یو ایس ورجن آئی لینڈز میں پیدا ہونے والوں کو بھی امریکی شہریت حاصل ہوتی ہے، جبکہ امریکن ساموا میں پیدا ہونے والے افراد عمومی طور پر پیدائشی امریکی شہری کے بجائے U.S. non-citizen nationals تصور کیے جاتے ہیں۔
امریکہ میں Birth Tourism کتنا بڑا ہے؟
سرکاری سطح پر ایسے افراد کا کوئی جامع ڈیٹا موجود نہیں جو خاص طور پر بچے کی پیدائش کے لیے امریکہ آتے ہیں۔ فراہم کردہ CDC تخمینے کے مطابق 2024 میں غیرملکی پتے رکھنے والی ماؤں کے تقریباً 9,500 بچوں کی پیدائش امریکہ میں ہوئی، جبکہ اسی سال امریکا میں مجموعی طور پر تقریباً 37 لاکھ بچے پیدا ہوئے۔
مائیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ کے تخمینے کے مطابق برتھ ٹورازم کے نتیجے میں امریکا میں سالانہ تقریباً 20 ہزار سے 26 ہزار بچوں کی پیدائش ہوسکتی ہے، تاہم کسی خاتون کے امریکا آنے کے اصل مقصد کا درست تعین مشکل ہونے کی وجہ سے حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں۔
معاملہ سپریم کورٹ تک کیوں پہنچا؟
ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی پیدائشی شہریت کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی کوشش کرچکی ہے۔ اس معاملے میں انتظامیہ نے برتھ ٹورازم کو بھی اپنے دلائل کا اہم حصہ بنایا، تاہم سپریم کورٹ میں 14ویں ترمیم کی تشریح اور صدر کے اختیارات بنیادی قانونی سوالات رہے۔
نئے ایگزیکٹو آرڈرز کے بعد بھی یہ معاملہ دوبارہ عدالتی جانچ کا سامنا کرسکتا ہے، کیونکہ امریکا میں پیدائشی شہریت کا بنیادی اصول براہ راست 14ویں آئینی ترمیم سے منسلک ہے۔