ریاست کیلیفورنیا سے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیتنے والی ایشا وہاب کون ہیں؟
عالمی میڈیا کے مطابق ریاست کیلیفورنیا کے سینیٹ کی رکن اور ڈیموکریٹ ایشا وہاب امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک خالی نشست پر ہونے والا خصوصی انتخاب جیت گئی ہیں۔
ایشا وہاب نے ڈیموکریٹ امیدوار میلیسا ہرنینڈز کو شکست دی، جو سان فرانسسکو بے ایریا کے ماس ٹرانزٹ سسٹم (عوامی نقل و حمل کے نظام) کی ایک عہدیدار ہیں۔
حلف اٹھانے کے بعد افغان نژاد امریکی ایشا وہاب اس نشست کو سنبھالیں گی جو ڈیموکریٹ نمائندے ایرک سوالویل کے پاس تھی؛ سوالویل نے اپریل میں جنسی بدسلوکی کے الزامات کے دوران استعفیٰ دے دیا تھا، انہوں نے الزامات کی انہوں نے تردید کی تھی۔
خالی ہونے والی نشست پر انتخاب اس کے نتیجے کے بعد ایوان میں ڈیموکریٹس کی نشستوں کی تعداد 213 رہے گی، جبکہ ریپبلکنز کے پاس 218 نشستیں ہیں۔
یہ حلقہ، جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کا اثر و رسوخ بہت مضبوط ہے، سان فرانسسکو اور سان ہوزے کے قریب واقع ہے۔
ایشا وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد امریکی رکن ہوں گی۔ یہ ترقی پسند ڈیموکریٹ رہنما کیلیفورنیا کی ریاستی قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والی پہلی مسلمان خاتون اور پہلی افغان نژاد امریکی بھی تھیں۔
این بی سی نیوز کے مطابق 95 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر ایشا وہاب نے 53 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے جبکہ ہرنینڈز نے تقریباً 47 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
واشنگٹن پوسٹ اور دیگر کئی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ‘ — جو اسرائیل کی حمایت کرنے والے لابنگ گروپ ’امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی‘ (AIPAC) کا ایک ’سپر پیک‘ (super PAC) ہے — نے اگست کے اوائل سے ہرنینڈز کی انتخابی مہم کو تقویت دینے کے لیے تقریباً 25 لاکھ (2.5 ملین) ڈالر خرچ کیے۔
رواں سال ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی مقابلوں میں، اسرائیل سے متعلق امیدواروں کے موقف پر پیدا ہونے والے تناؤ کے دوران، یہ لابنگ گروپ تنقید کا مرکزی ہدف بن گیا ہے۔
نمایاں ترقی پسند ڈیموکریٹس نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کی مخالفت کی ہے؛ اس کی وجوہات میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی-اسرائیلی جنگ، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ریپبلکنز کے ساتھ قریبی تعلقات، اور خاص طور پر غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملے شامل ہیں، جس کے نتیجے میں واشنگٹن کے اس اتحادی کے لیے ڈیموکریٹک حمایت میں کمی آئی ہے۔
ایشا وہاب اور ہرنینڈز نومبر میں دوبارہ ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔ اس انتخاب میں جیتنے والا امیدوار کانگریس کی نشست پر پورے دو سال کی مدت کے لیے فائز رہے گا۔
ایشا وہاب، جنہوں نے خود کو عدم مساوات کو کم کرنے کے عزم کے ساتھ ایک ریاستی قانون ساز کے طور پر پیش کیا ہے، نے ایک ایسا بل تیار کیا تھا جس کے تحت کیلیفورنیا امریکہ کی وہ پہلی ریاست بن جاتی جہاں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک پر واضح طور پر پابندی عائد ہوتی۔ تاہم، 2023 میں گورنر گیون نیوسم نے اسے ویٹو کر دیا؛ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قوانین کے تحت نسلی یا خاندانی پس منظر کی بنیاد پر امتیازی سلوک پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔

