اہم خبریں

جیل میں‌ بیماریوں کی ’تشویشناک صورتحال‘، ایمان مزاری کے اہلخانہ کا بیان

اگست 25, 2026

جیل میں‌ بیماریوں کی ’تشویشناک صورتحال‘، ایمان مزاری کے اہلخانہ کا بیان

ایمان زینب مزاری حاضر اور ہادی علی چٹھہ کے اہلخانہ کی جانب سے اڈیالہ جیل میں طبی سہولیات کے حوالے سے ایک بیان میں ’تشویشناک صورتحال‘ بتائی گئی ہے-

بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری حاضر اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ 23 جنوری 2026 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور ’قانون کے تقاضوں کی خلاف ورزیوں والے ٹرائل کے بعد متنازع سزا کے خلاف ان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابھی تک سماعت نہیں ہو سکی ہے۔‘

اہلخانہ نے کہا ہے کہ ’ہم تب سے جیل میں ہفتہ وار ملاقاتوں پر اطمینان ظاہر کرتے آئے ہیں۔ تاہم یہ بیان جاری کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ایمان مزاری کو گزشتہ تین ہفتوں سے صحت کے مسائل کا سامنا ہے، جس سے جیل میں طبی سہولیات پر سوالات اٹھتے ہیں۔‘

بیان کے مطابق ایمان نے سب سے پہلے اپنے مسوڑھوں سے شدید خون بہنے کی شکایت کی تھی، لیکن جیل میں معائنہ کے لیے کوئی ڈینٹسٹ (دانتوں کا ڈاکٹر) دستیاب نہیں تھا۔ ’ہم نے اپنے ڈینٹسٹ سے مشورے کے بعد دوا بھیجنے کا انتظام کیا لیکن تمام ادویات ان تک نہیں پہنچیں۔ اگلے ہفتے وہ معدے کے مسائل کا شکار تھیں، اور طبی توجہ ناکافی رہی۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ متلی اور الٹی کو روکنے کے لیے انہیں ایسی دوا دی گئی جو بنیادی طور پر کینسر کے مریضوں کے لیے ہوتی ہے اور جس پر واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ بچوں کی پیدائش کی عمر والی خواتین کو نہیں دی جانی چاہیے۔‘

اہلخانہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے ایمان مزاری کو سینے کا انفیکشن ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے خون کے ٹیسٹ سے وائٹ بلڈ سیلز (سفید خلیات) کی زیادہ سطح ظاہر ہوئی ہے جو انفیکشن کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہیں سینے کا ایکسرے کروانے کی ضرورت ہے لیکن جیل حکام نے انفیکشن کی وجہ معلوم کرنے اور تپ دق (ٹی بی) جیسی خطرناک بیماریوں کے امکان کو ختم کرنے کے لیے ابھی تک سینے کا ایکسرے نہیں کروایا ہے۔

ایمان مزاری کی فیملی کے مطابق اُن کی تشویش اس تشویشناک حقیقت سے مزید بڑھ گئی ہے کہ اڈیالہ جیل کے خواتین کے شعبے میں جن قیدیوں میں متعدی (ایک سے دوسرے کو لگنے والی) بیماریوں کی تشخیص ہوئی ہے، انہیں الگ تھلگ (قرنطینہ) نہیں رکھا جاتا اور وہ دوسرے قیدیوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی ملتی جلتی ہیں۔

بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ خواتین کی طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کی دستیابی میں بہت زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔

ایمان مزاری کے اہلخانہ کے بیان کے مطابق جیل میں صحت کا ایک بحران ہے، اور قیدیوں کی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے جسے ہلکا نہیں لیا جانا چاہیے۔ ہم یہ بھی دہرانا چاہتے ہیں کہ اگر ان کی سزا کی معطلی کی درخواستوں کی بروقت سماعت کی جائے تو ان تمام طبی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

بیان میں‌ جیل حکام اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایمان زینب مزاری کے سینے کا ایکسرے جلد از جلد کرایا جائے، تمام خواتین قیدیوں کو دانتوں کے علاج سمیت مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اسی طرح دیگر قیدیوں کی حفاظت کے لیے متعدی بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کو احترام کے ساتھ الگ تھلگ یا قرنطینہ میں رکھا جائے۔

یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ تمام قیدیوں کو ماہر ڈاکٹروں کی خدمات اور متعلقہ ادویات تک رسائی فراہم کی جائے۔ اور 8 ستمبر 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ایمان اور ہادی کی سزا کی معطلی کی درخواستوں کی حکومت کی جانب سے مخالفت نہ کی جائے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے