ایران سے ’معمولی معاملہ‘، اس کو جنگ نہیں کہا جا سکتا: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو "معمولی معاملہ” قرار دیا اور نائب صدر جے ڈی وینس کے اس موقف کا دفاع کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں وقفے وقفے سے ہونے والے حملے "جنگ” کے زمرے میں نہیں آتے۔
اوول آفس میں گفتگو کے دوران جب ان سے وینس کے گزشتہ روز دیے گئے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر امریکی حملے اب "وقفے وقفے سے” ہو رہے ہیں اور "بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے۔” اس تنازعے کے نتیجے میں امریکی ٹیکس دہندگان کو 37.5 ارب ڈالر سے زائد کا بوجھ اٹھانا پڑا ہے اور 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ "میں سمجھ سکتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: "میں اسے عسکری کشیدگی یا تنازع کہتا ہوں کیونکہ ہمارے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں؛ یہ ایک معمولی معاملہ ہے۔”
جمعرات کو وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کے دوران نائب صدر وینس نے ایران کے ساتھ امریکی لڑائی کے لیے "جنگ” کا لفظ استعمال کرنے کو مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے اس بارے میں کوئی پیش گوئی کرنے سے بھی گریز کیا کہ آیا چھ ماہ پرانا یہ تنازع نومبر کے وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشنز) تک ختم ہو جائے گا یا نہیں؛ ان انتخابات میں ریپبلکنز کانگریس میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ممکنہ طور پر بہت جلد ایران میں واقع کوہ کلنگ (جسے مغربی ذرائع ابلاغ میں پکیکس ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے) پر حملہ کر سکتا ہے۔
یہ زیرِ زمین سرنگوں کا ایک کمپلیکس ہے جو نطنز کی جوہری تنصیبات کے قریب واقع ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ خلا کے شعبے میں سب سے آگے ہے، ’ہمیں ہر اس فرد کے بارے میں معلوم ہے جو کوہ کلنگ میں حرکت کر رہا ہے، ہمیں ایران بھر میں ہر فرد کی نقل و حرکت کا علم ہے۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو ہم انھیں (ایران کو) نشانہ بنائیں گے، ہم انھیں شدت سے نشانہ بنائیں گے۔‘
صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا؛ ’اگر ہم وہاں مداخلت نہ کرتے تو آج اسرائیل موجود نہ ہوتا، مشرقِ وسطیٰ موجود نہ ہوتا، اور غالب امکان ہے کہ اس کے بعد وہ یورپی شہروں اور ہمارے شہروں کو بھی نشانہ بناتے۔ لیکن ہم نے انھیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا۔‘