Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 128

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
دہائیوں‌ پرانے مقدمے میں‌ یاسین ملک کا 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی، ترجمہ: راجہ مظفر
Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
اہم خبریں

دہائیوں‌ پرانے مقدمے میں‌ یاسین ملک کا 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی، ترجمہ: راجہ مظفر

ستمبر 5, 2026

دہائیوں‌ پرانے مقدمے میں‌ یاسین ملک کا 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی، ترجمہ: راجہ مظفر

راجہ مظفر۔ امریکہ

36 برس بعد سرلا بھٹ قتل کیس میں نامزدگی، تحقیقاتی عمل پر سوالات، سیاسی پس منظر، مقدمہ نہ لڑنے کا فیصلہ اور خاندان کے نام آخری پیغامات
ترجمہ و ترتیب: راجہ مظفر
جسٹس فار یاسین ملک کمپین
تہاڑ جیل میں قید جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کا 25 صفحات پر مشتمل تازہ بیانِ حلفی محض ایک قانونی دستاویز نہیں، بلکہ ان کے اپنے الفاظ میں ان کی زندگی، سیاسی جدوجہد، مقدمات، ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات، سرلا بھٹ قتل کیس میں لگائے گئے نئے الزامات اور اپنے خاندان کے لیے انتہائی ذاتی پیغامات کا مجموعہ ہے۔
یہ بیانِ حلفی سرینگر کی ایڈیشنل سیشن جج، TADA/POTA عدالت کے سامنے State Investigation Agency versus Mohammad Yasin Malik & Others کے مقدمے میں پیش کیا گیا۔ یاسین ملک ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ اور قرآنِ مجید کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ بیان میں درج تمام باتیں ان کے علم اور یقین کے مطابق درست ہیں، اور 24 اگست 2026 کی ان کی تحریری گذارشات بھی اسی شہادت کا حصہ سمجھی جائیں۔

36 برس بعد ایک نیا مقدمہ
بیانِ حلفی کا بنیادی اور سب سے اہم حصہ سرلا بھٹ قتل کیس سے متعلق ہے۔ یاسین ملک کے مطابق، 29 جون 2026 کو جموں و کشمیر کی State Investigation Agency، یعنی SIA، نے سرلا بھٹ کے قتل کے مقدمے میں چارج شیٹ داخل کی۔ سرلا بھٹ ایک نوجوان کشمیری پنڈت خاتون تھیں، جنہیں 19 اپریل 1990 کو قتل کیا گیا تھا۔ یاسین ملک کہتے ہیں کہ انہیں شدید حیرت ہوئی کہ واقعے کے 36 برس بعد انہیں اس مقدمے میں ملزم بنا دیا گیا۔

ان کے مطابق، چارج شیٹ داخل ہونے سے پہلے 2 اور 3 جون 2026 کو SIA کے تین افسران تہاڑ جیل میں ان سے پوچھ گچھ کے لیے آئے اور بنیادی طور پر دو الزامات ان کے سامنے رکھے۔ پہلا یہ کہ جائے وقوعہ سے JKLF سے منسوب ایک ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ ملا تھا، جس میں قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جاوید میر، شیخ عبد الحمید اور محمد یاسین ملک کے نام درج تھے۔ دوسرا الزام یہ تھا کہ سرلا بھٹ نے مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کو نروارہ میں یاسین ملک کی موجودگی کے بارے میں اطلاع دی تھی اور اسی بنیاد پر انہیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔
یاسین ملک اس الزام کے جواب میں ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں: اگر ایسا نوٹ واقعی 1990 میں موجود تھا تو اُس وقت کی تحقیقاتی ایجنسیوں نے جاوید میر، حمید شیخ یا یاسین ملک کو اس مقدمے میں کیوں نامزد نہیں کیا؟ ان کے مطابق، اس وقت ان پر TADA کے تحت متعدد مقدمات قائم کیے گئے، لہٰذا یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اتنا اہم مبینہ ثبوت تحقیقاتی اداروں کی نظر سے کیسے بچ سکتا تھا۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کئی دہائیوں کے بعد اچانک یہ نظریہ کس قانونی اور حقائقی بنیاد پر سامنے آیا۔
نروارہ کا واقعہ اور شدید زخمی ہونے کا دعویٰ
یاسین ملک اپنے دفاع میں 8 اپریل 1990 کے نروارہ واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، اُس روز سری نگر میں مکمل کرفیو تھا۔ وہ شوکت بخشی، جاوید زرگر اور اقبال گنڈرو کے ساتھ حافظ بزاز کے ایک مکان میں موجود تھے کہ تقریباً بیس منٹ بعد BSF نے عمارت پر چھاپہ مارا۔
وہ بیان کرتے ہیں کہ بچنے کی کوشش میں وہ پانچویں منزل سے کود گئے، شدید زخمی ہوئے، بہت خون بہا اور بے ہوش ہو گئے۔ انہیں پہلے SMHS اسپتال اور بعد میں SKIMS سورہ منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق وہ کئی دن کوما میں رہے اور ان کی موت کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں۔
یہی واقعہ ان کے دفاع کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب 19 اپریل 1990 کو سرلا بھٹ قتل ہوئیں، اُس وقت وہ خود جان لیوا زخموں، کوما اور علاج کے مراحل سے گزر رہے تھے۔ اسی لیے وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسی جسمانی حالت میں ان کی جانب سے قتل کی منصوبہ بندی یا حکم دینے کا دعویٰ کیسے قابلِ اعتبار ہو سکتا ہے۔

”سرلا بھٹ مخبر نہیں تھیں“
بیانِ حلفی میں شاید سب سے اہم وضاحت یہ ہے کہ یاسین ملک سرلا بھٹ کو سکیورٹی فورسز کی مخبر قرار دینے کے الزام کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ سرلا بھٹ ایک بے گناہ شہری تھیں اور اپنے الفاظ میں انہیں اپنی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ جتنا معصوم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ BSF کو 8 اپریل کے چھاپے سے پہلے خود ان کی موجودگی کا علم نہیں تھا، اس لیے یہ کہنا منطقی نہیں کہ سرلا بھٹ نے ان کی موجودگی کی اطلاع دے کر وہ چھاپہ کرایا تھا۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ سرلا بھٹ کے المناک قتل کو 36 برس بعد ایک “انتقامی قتل” کے طور پر پیش کرنا نہ صرف ثبوت سے محروم ہے بلکہ مقتولہ کی یاد کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق استغاثہ کوئی ایسا معاصر مواد پیش نہیں کرتا جس سے یہ ثابت ہو کہ سرلا بھٹ مخبر تھیں، نروارہ کے چھاپے سے ان کا کوئی تعلق تھا، یا یاسین ملک نے ان کے قتل میں کوئی کردار ادا کیا۔

”مجھے سرلا بھٹ کے قتل کا پہلی مرتبہ 1991 میں علم ہوا“
یاسین ملک بیان کرتے ہیں کہ سرلا بھٹ کے قتل کے بارے میں انہوں نے پہلی بار 21 فروری 1991 کو عدالتی حراست میں سنا۔ ان کے مطابق اس سے پہلے نہ انہوں نے سرلا بھٹ کا نام سنا تھا اور نہ ان کے قتل سے متعلق واقعے سے واقف تھے۔
وہ یہ واقعہ انٹیلی جنس بیورو کے ایک سینئر افسر کے ساتھ گفتگو کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر 1990 ہی میں کوئی ایسا تحریری نوٹ موجود تھا جو ان پر قتل کی ذمہ داری ڈالتا تھا تو یہ بات ان اعلیٰ سرکاری اور انٹیلی جنس افسران سے پوشیدہ رہنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔

انتقام کے الزام کے خلاف ذاتی مثالیں
یاسین ملک اپنے کردار اور سابقہ رویے کو بھی بطور دفاع پیش کرتے ہیں۔ وہ ایک خاتون صحافی سے متعلق واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں ایک اخباری رپورٹ سے ان کی ذاتی شہرت متاثر ہوئی، مگر ان کے بقول انہوں نے نہ اس صحافی کو دھمکی دی، نہ کسی کو انتقامی کارروائی کا حکم دیا اور نہ کسی قسم کے تشدد کی حوصلہ افزائی کی۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر وہ اپنی ذاتی بدنامی پر بھی انتقام نہیں لیتے تو یہ نظریہ کہ انہوں نے محض شبہے کی بنیاد پر ایک بے گناہ خاتون کو قتل کرنے کا حکم دیا، ان کے طرزِ عمل سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ماضی کے امن مذاکرات اور بھارتی حکام سے رابطے
بیان میں یاسین ملک اپنے ماضی کے سیاسی رابطوں اور امن عمل کا بھی تفصیلی ذکر کرتے ہیں۔ وہ واجپائی دور میں حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات، اجیت ڈوول، شیامل دتہ، برجیش مشرا اور دیگر حکام سے ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہیں۔
اپنی طبی حالت کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہیں پہلی مرتبہ پاسپورٹ اسی دور میں دیا گیا تاکہ وہ امریکہ اور برطانیہ میں علاج کروا سکیں اور امن عمل میں شریک ہو سکیں۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ واجپائی حکومت کی جانب سے ان کے علاج کے لیے مالی امداد کی پیشکش ہوئی جسے انہوں نے قبول نہیں کیا، اسی طرح پاکستان کی جانب سے پیش کردہ مالی مدد بھی مسترد کی۔

ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد ان کے مطابق یہ دکھانا ہے کہ ایک وقت میں ریاستی ادارے انہیں امن و مذاکرات کے عمل کا حصہ سمجھتے تھے، جبکہ اب کئی دہائیوں پرانے واقعات کے سلسلے میں ایک بالکل مختلف بیانیہ قائم کیا جا رہا ہے۔

کشمیری پنڈت، ہجرت اور متضاد بیانیے
بیانِ حلفی کا ایک بڑا حصہ کشمیری پنڈتوں سے یاسین ملک کے تعلقات پر مشتمل ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ بعض کشمیری پنڈت نجی ملاقاتوں میں انہیں محبت اور خاندانی قربت سے ملتے رہے، مگر عوامی مباحث اور میڈیا میں انہی حلقوں کے بعض افراد انہیں پنڈتوں کے قتل اور ہجرت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
وہ متعدد ذاتی واقعات کا حوالہ دیتے ہیں جن کے ذریعے ان کا مؤقف ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں اور پنڈتوں کے درمیان زمینی سطح کے تعلقات اکثر اس سیاسی بیانیے سے کہیں زیادہ پیچیدہ رہے ہیں جو ٹیلی وژن اور انتخابی سیاست میں دکھایا جاتا ہے۔

وہ کشمیری پنڈتوں کے خلاف ہونے والے قتلِ عام کی مذمت اور بعض مقتولین کی آخری رسومات میں اپنی شرکت کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ان کے نام کو بار بار ایسے واقعات کے ساتھ جوڑا گیا جن میں ان کے مطابق ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

سیاسی استعمال اور میڈیا ٹرائل کا الزام
یاسین ملک 2019، 2022 اور 2024 کے سیاسی ماحول کو بھی اپنے بیان کا حصہ بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تصویر اور نام مختلف انتخابی اور میڈیا بیانیوں میں بار بار استعمال کیے گئے اور اس سے عوامی سطح پر ان کے خلاف پہلے سے فیصلہ شدہ تصور پیدا ہوا۔
وہ یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ کسی شخص کی تصویر، بار بار لگایا جانے والا الزام یا سیاسی پروپیگنڈا بذاتِ خود کسی جرم کا قانونی ثبوت نہیں ہو سکتا۔
مقدمہ مزید نہ لڑنے کا فیصلہ
بیانِ حلفی کا سب سے چونکا دینے والا حصہ صفحہ 21 پر سامنے آتا ہے۔
یاسین ملک لکھتے ہیں کہ انہیں عدالت یا استغاثہ سے کوئی ذاتی شکایت نہیں، لیکن ان کی سمجھ کے مطابق موجودہ کارروائی سیاسی حالات اور فیصلوں کا نتیجہ ہے اور انہیں اس مقدمے میں جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے آئندہ فیصلے کے لیے استخارہ کیا اور طویل غور و فکر کے بعد مقدمے کی کارروائی کو مزید contest نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن وہ اسی جگہ صاف طور پر لکھتے ہیں کہ اس فیصلے کو نہ اعترافِ جرم سمجھا جائے، نہ استغاثہ کے کسی الزام یا حقیقت کی قبولیت۔ اس کے بعد وہ سزائے موت کی درخواست کا ذکر کرتے ہیں۔
یہ فرق انتہائی اہم ہے: مقدمہ نہ لڑنے کا فیصلہ، بیانِ حلفی کے مطابق، جرم قبول کرنا نہیں ہے۔

والدہ کے نام پیغام
اپنے قانونی اور سیاسی دفاع کے بعد بیان اچانک انتہائی ذاتی اور جذباتی ہو جاتا ہے۔
وہ اپنی والدہ سے مخاطب ہو کر لکھتے ہیں کہ گزشتہ آٹھ برس میں انہوں نے جدائی، تکلیف اور مشکلات برداشت کیں۔ ان کے مطابق NIA اور SIA کی بار بار پوچھ گچھ کے باعث کئی رشتہ دار، دوست اور خیرخواہ بھی خاندان سے دور ہو گئے۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ ان کی والدہ کے دکھ کا اب خاتمہ ہو اور انہیں امن، طاقت اور عزت نصیب ہو۔

اہلیہ کے نام انتہائی دردناک پیغام
اپنی اہلیہ اور بیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے یاسین ملک لکھتے ہیں کہ آٹھ برس سے انہیں ان کی آواز سننے یا ان سے فون اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
وہ اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں کہ وہ ان سے بیس برس چھوٹی ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ وہ اپنی باقی زندگی ان کے حالات کا بوجھ اٹھاتے یا بیوہ ہونے کے انتظار میں گزاریں۔ وہ انہیں ہمت، وقار اور امید کے ساتھ زندگی کا نیا باب شروع کرنے کا کہتے ہیں، ساتھ ہی لکھتے ہیں کہ ان کی محبت، عزت، دعائیں اور شفقت دنیا اور آخرت میں ان کے ساتھ رہیں گی۔
اس حصے میں وہ نیلسن منڈیلا کی تحریروں سے بھی طویل اقتباسات نقل کرتے ہیں، خصوصاً اس درد کے بارے میں جو ایک سیاسی قیدی اور آزادی کی جدوجہد سے وابستہ شخص اپنی ازدواجی اور خاندانی زندگی میں برداشت کرتا ہے۔

13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ کے نام
بیان کے آخری صفحات میں یاسین ملک اپنی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ کو مخاطب کرتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ آٹھ برس سے انہوں نے اس کی آواز نہیں سنی۔ اپنی سیل میں وہ اپنی بیٹی کی تصویر اپنے پاس رکھتے ہیں اور اسی تصویر کے ذریعے ہر لمحہ اس کی موجودگی محسوس کرتے ہیں۔ وہ اپنی بیٹی کی خوشی، سلامتی اور روشن مستقبل کی دعا کرتے ہیں، اور اس سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ روزانہ کم از کم پانچ منٹ اپنی دادی کو فون کیا کرے تاکہ انہیں محبت اور سہارا مل سکے۔

“یہ ہمدردی کی اپیل نہیں، میرا آخری بیانِ ضمیر ہے”
آخر میں یاسین ملک اپنے بیان کو Declaration of Conscience — اعلانِ ضمیر کہتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا سچ، اپنی یادیں، اپنا ضمیر اور اپنی زندگی کے حالات عدالت کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں کسی شخص سے نفرت نہیں اور وہ کسی سے انتقام نہیں چاہتے۔

ان کے الفاظ میں، سچ بولنے والے اپنے سچ کا، جھوٹ بولنے والے اپنے جھوٹ کا، تحقیقات کرنے والے اپنی تحقیقات کا اور کسی بے گناہ پر الزام ڈالنے والے اپنے عمل کا جواب بالآخر اللہ کے سامنے دیں گے۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ کوئی انسانی ادارہ گزرے ہوئے حقیقت کو مٹا نہیں سکتا، وقت جھوٹ کو سچ میں تبدیل نہیں کر سکتا، اور کسی الزام کو بار بار دہرانا اسے حقیقت نہیں بنا دیتا۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ بیان نہ ہمدردی کی اپیل ہے اور نہ رحم کی درخواست، بلکہ ان کا “آخری بیانِ ضمیر” ہے۔
بیانِ حلفی کے آخری الفاظ ہیں:
“میں نے کہہ دیا۔ میں نے اپنی دانست کے مطابق سچ ریکارڈ پر رکھ دیا۔ باقی اللہ کے سپرد ہے۔”
دستاویز 24 اگست 2026 کو دہلی میں تصدیق شدہ دکھائی گئی ہے۔

حاصلِ کلام
یہ 25 صفحات محض ایک ملزم کا قانونی دفاع نہیں۔ یہ یاسین ملک کی جانب سے اپنے ماضی، اپنے سیاسی سفر، سرکاری اداروں کے ساتھ اپنے سابقہ تعلقات، سرلا بھٹ قتل کیس میں اپنی بے گناہی کے دعوے، میڈیا و سیاسی بیانیوں کے خلاف اعتراض، اور اپنے خاندان کے لیے ممکنہ آخری پیغامات کو ایک ہی دستاویز میں جمع کرنے کی کوشش ہے۔
سرلا بھٹ کا قتل ایک المناک جرم تھا اور حقیقی انصاف کا تقاضا ہے کہ اس کے اصل ذمہ داروں کا تعین معتبر، قابلِ قبول اور قانونی شواہد پر کیا جائے۔ اسی طرح یاسین ملک کے خلاف کوئی بھی الزام محض سیاسی فضا، میڈیا بیانیے یا دہائیوں بعد سامنے آنے والے دعوؤں کی بنیاد پر نہیں بلکہ عدالت میں جانچے گئے ثبوت کی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔
اس بیانِ حلفی کا سب سے گہرا سوال شاید یہی ہے:
کیا 36 برس بعد سامنے آنے والا الزام اپنے آپ میں انصاف ہے، یا انصاف کا اصل امتحان یہ ہے کہ الزام اور دفاع—دونوں کو ایک ہی قانونی معیار پر پرکھا جائے؟
ترجمہ و ترتیب: راجہ مظفر
جسٹس فار یاسین ملک کمپین

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے