Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 128

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
’نوکری پر رہوں‌یا نہ رہوں اب پیچھے نہیں‌ ہٹوں گا‘، محسن نقوی ’سسٹم ری سیٹ‘ پر ڈٹ گئے
Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
اہم

’نوکری پر رہوں‌یا نہ رہوں اب پیچھے نہیں‌ ہٹوں گا‘، محسن نقوی ’سسٹم ری سیٹ‘ پر ڈٹ گئے

ستمبر 5, 2026

’نوکری پر رہوں‌یا نہ رہوں اب پیچھے نہیں‌ ہٹوں گا‘، محسن نقوی ’سسٹم ری سیٹ‘ پر ڈٹ گئے

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اب چھوٹے انتظامی یونٹ بنیں‌ گے اور وہ اس نوکری پر رہیں یا نہ رہیں اس بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے-

لاہور میں‌ قومی پالیسی مکالمہ کی نشست میں‌ گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اب ممدانی (نیو یارک کے میئر) اور صادق خان (لندن کے میئر) ہر صورت آئیں‌ گے-

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ان کی گفتگو کا اشارہ کسی سیاسی جماعت کی طرف نہیں‌ تھا، اور وہ اسلام آباد کو بھی صوبہ بنانے کے سب سے بڑے حامی ہیں-

وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی ایک شخص، حکومت یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں بلکہ عوام کی خواہش اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں‌ نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ملک کے انتظامی ڈھانچے پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے، تاہم کوئی بھی اقدام آئین سے ماورا نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو غیر آئینی اقدام کا اختیار حاصل نہیں، ہم سب نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے اور کسی صورت غیر آئینی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے انتظامی اصلاحات کے لیے بہت سے راستے موجود ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو یہ بننے چاہییں، لیکن اگر عوام اس کے حق میں نہیں تو انہیں مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں عوام کی رائے کو مقدم رکھنا ہوگا۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کو وجود میں آئے 79 برس ہوچکے ہیں اور اس عرصے میں آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث انتظامی ضروریات بھی تبدیل ہوئی ہیں۔ جس طرح آبادی بڑھنے کے ساتھ ایک خاندان کے لیے ایک گھر کے بجائے مزید گھروں کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومت عوام کو کیا سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔ تعلیم، صحت، صاف پانی اور انصاف ہر شہری کا حق ہیں، لیکن 79 برس بعد بھی تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، ہر 10 میں سے 4 بچوں کو مناسب خوراک میسر نہیں جبکہ صرف 55 فیصد پاکستانیوں کو صاف پانی دستیاب ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق ملک کی عدالتوں میں تقریباً 20 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں اور شہری انصاف کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک حکومت کی کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ 79 برس کا مجموعی نتیجہ ہے، جس پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ موجودہ اور آنے والی نسل ہم سے بہتر تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کے مواقع کا تقاضا کر رہی ہے، جبکہ نوجوانوں کا بنیادی سوال روزگار اور میرٹ سے متعلق ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کو روزگار اور اپنے علاقوں میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے