پنجاب کی وزیراعلٰی کا متنازع بیان، ’مریم نواز نے شریف خاندان کے سوچ کی ترجمانی کی‘
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیراعلٰی مریم نواز کے ایک بیان نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت اور عام شہریوں کے ردعمل کو جنم دیا ہے-
مریم نواز نے سنیچر کو ’پرووینشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر پنجاب‘ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ اُن کے صوبے کو پڑوسی ملکوںسے زیادہ پڑوسی صوبوں سے آنے والی دہشت گردی کا خطرہ ہے-
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مریم نواز کے بیان کو تعصب پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ’بیان نے ریاست پاکستان کے عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا لہجہ پاکستان مسلم لیگ ن کے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے- ’لیکن اب تین وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دینا ملک کی بنیادوں کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے۔‘
سندھ کے ضلع میرپورخاص میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ’پنجاب کی وزیراعلیٰ انڈیا کو دوست کہتی ہیں، انڈیا سے کوئی مسئلہ نہیں مگر پاکستان کے سرحدی صوبوں سے مسئلہ ہے۔‘
اس بیان پر تبصرے میں صحافی و کالم نگار سرل المیڈا نے ایکس پر لکھا کہ ’مریم نواز نے سب کو یاددہانی کرائی ہے کہ شریف خاندان درحقیقت دیگر صوبوں کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔‘
اس پر پیپلز پارٹی کے ایک کارکن سید حسین نے سرل المیڈا کو یاد دلایا کہ اس سب کی شروعات 1990 کی دہائی میں میاں صاحب نے کی تھی، جب انہوںنے ’جاگ پنجابی جاگ‘ کا نعرہ بلند کیا تھا-
سینیئر تجزیہ کار محمد تقی نے اس پر لکھا کہ یہ نعرہ 1988 میں اس رات لگایا گیا تھا جب آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) قومی اسمبلی کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو سے ہار گئی تھی۔
سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے مریم نواز کے بیان پر فواد چودھری کو تائید و توثیق کرتے دیکھا تو لکھا کہ اقتدار کی سیاست میں ایک دوسرے کے سخت حریف رہنے والے یہ دو ’پنجابی قوم پرست‘، پشتونوں کی مخالفت اور تضحیک کے معاملے میں مکمل طور پر متحد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ انہیں اپنے پڑوسی ملک انڈیا کی نسبت پختونخوا سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے! اس نئے ’خطرے کے ادراک‘ (threat perception) پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
مریم نواز کے بیان پر طنز کرتے ہوئے صحافی آصف شہزاد نے کہا کہ لشکر جھنگوی، سپا ہ صحابہ، جیش محمد، لشکر طیبہ، جماعت دعوۃ، حرکت النصار، حرکت المجاہدین وغیرہ وغیرہ تو جیسے گلگت بلتستان میں ہوتی تھیں-
صحافی و تجزیہ کار علی ارقم نے پنجاب کی وزیراعلٰی کے بیان پر جواب دیا کہ جب نواز شریف سنہ 2013 میں انڈیا سے تجارت بڑھانے کی پالیسی پر گامزن تھے تو اُس کی مخالفت پنجاب کے مولویوں نے کی تھی-
انہوں نے کہا کہ مریم نواز ہمت کر کے انڈیا کے ساتھ سرحد کھول کر تجارت شروع کریں کوئی صوبہ مخالفت نہیں کرے گا-
پرویز مشرف سے تعلق پر فخر کا اظہار کرنے والے تحریک انصاف کی حکومت کے سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے پنجاب کی وزیراعلٰی کی حمایت کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کو پیچیدہ قبائلی اور مذہبی جھگڑے قرار دیا اور کہا کہ ریاست اس کی متاثرہ ہے- ’تلخ مگر سچ! پنجاب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری قبائلی اور مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تنازعات سے پیدا ہونے والے خطرات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہاں مریم نواز شریف بالکل درست ہیں۔‘
انہوں نے مریم نواز کے بیان کو تلخ حقیقت قرار دیا ہے-
اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے مریم نواز کو جواب دیا کہ پنجاب کو پڑوسی صوبوں اور وہاں بسنے والے لوگوں سے نہیں، آپ کی سوچ سے خطرہ ہے۔
انہوں نے پنجاب کی وزیراعلٰی سے کہا کہ دیگر صوبوں سے آنے والے لوگوں کی غیر ضروری پروفائلنگ کرنے کے بجائے صوبے کے بارڈر منیجمنٹ کو بہترکریں۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ سی پیک کے اعلان کے بعد نواز شریف نے بلوچستان کے طلبا کے لیے سکالرشپس کا اعلان کیا جو اب نصف سے بھی کم کردی گئیں۔ ایک اجلاس میں آپ کی وزیراطلاعات سے بھی اس کے حوالے سے سوال کیاگیا انہوں نے گندم کا جواب چنا دے کر بلوچستان کے ہر ایک طالب علم کو دہشت گردوں کی صف میں لاکر کھڑا کردیا۔
سیاسی امور کے ماہر پشتون ایکٹیوسٹ عمران خان نے کہا کہ وہ بھی دن تھے جب سارا ملبہ "افغانوں” پر ڈال دیا جاتا تھا۔ اب ان کو نکال دیا تو کسی کو تو مورد الزام ٹھرانا ہے۔ کیونکہ ڈان لیکس نے یہ سبق سلھا دیا تھا کہ اصل مسئلے کی نشاندہی کبھی نہیں کرنی۔
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ مریم نواز کے بیان پر بے جا تنقید کرنے والے حقائق سے بے خبر ہیں اور انھیں سمجھنا چاہیے کہ جدید گورننس صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانے کا نام نہیں، امن، قانون، ٹیکنالوجی اور عوام کے تحفظ کے لیے جدید نظام کھڑا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سابق رکنِ اسمبلی محسن داوڑ نے مریم نوز کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ’جس دہشت گردی کو آپ آج پنجاب کے لیے خطرہ کہہ رہی ہیں، اس کے معمار آپ کی اپنی پنجابی اشرافیہ ہے۔ آپ تپش محسوس کر رہی ہیں، ہم دہائیوں سے جل رہے ہیں۔‘
خیبر پختونخوا سے ہی تعلق رکھنے والی سابق رکنِ اسمبلی بشریٰ گوہر نے تبصرہ کیا کہ ’قتل بھی ہم ہوں، اور الزام بھی ہم پر۔‘