پاکستان

دس ملین جرمانے پر مایوسی

فروری 16, 2018 3 min

دس ملین جرمانے پر مایوسی

Reading Time: 3 minutes

این ٹی ڈی سی کانیپرا کی جانب سے 10ملین روپے جرمانہ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے _
نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ (این ٹی ڈی سی) نے نیپرا کی جانب سے ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ سٹیشنز کی تکمیل میں مبینہ تاخیر پر 10ملین روپے جرمانہ عائد کرنے پر مایوسی کا اظہارکیا ہے اور جرمانہ کو بغیر سوچے سمجھے اور غیر ضروری قرار دیا ۔ ترجمان این ٹی ڈی سی نے مختلف اخبارات میں شائع خبر پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ این ٹی ڈی سی کی ٹیمیں ملک بھر سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے اپنے منصوبوں کوبروقت مکمل کرنے کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ کسی بھی منصوبے اگر کبھی کوئی تاخیر ہو تو وہ ارادتاًنہیں ہوتی تاہم این ٹی ڈی سی کے کنٹرول سے باہر معاملات تاخیر کا سبب بنے جن میں Right of Way، معززعدالتوں میں حکم امتناعی اور امن و عامہ کی مخدوش صورتحال شامل ہیں ۔
ترجمان نے کہا کہ نیپرا ایکٹ 1997 کے سیکشن 46کے تحت ، اتھارٹی (ریگولیٹر)کووفاقی حکومت کی منظوری سے قوانین بنانے کا اختیار حاصل ہے جبکہ NEPRA Fines Rules 2002کے تحت اتھارٹی صرف منصوبوں سے متعلق معلومات یا تفصیلات حاصل کرسکتی ہے اور مطلوبہ انفارمیشن مہیا نہ کرنے کی صورت میں ادارے پر جرمانے یا Penalityعائدکرنے کی مجاز ہے ۔ ترجمان نے واضح کیا کہ نیپرا ایکٹ 46کے تحت کوئی ایسی شق موجود نہیں جو این ٹی ڈی سی کے منصوبوںکے کنٹریکٹرز اور ایجنسیوں پر کنٹریکٹ ایڈمنسٹریشن کی صورت میں لاگو ہوتی ہو ۔جرمانہ نیپرا ایکٹ کی شق 46(2)(m)کے تحت عائد کیا گیا ہے جو اس صورت میں عائد کیا جاتا ہے جب لائسنس یافتہ کمپنی نیپرا کی جانب سے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ایکٹ میں شاید ہی کوئی ایسی شق ہو جو نیپرا کو یہ اختیار دیتی ہو کہ وہ لائسنس یافتہ کمپنی کے منصوبوں کو حتمی شکل نہ دینے پر جرمانے کا اختیار دیتی ہو۔ ترجمان نے کہا کہ این ٹی ڈی سی سمجھتی ہے کہ نیپرا کا یہ اقدام نیپرا ایکٹ اور رولز سے متصادم ہے ۔ این ٹی ڈی سی نیپرا کی جانب سے جرمانے کے احکامات کا دفاع کرنے پر غورکررہی ہے ۔
ترجمان نے این ٹی ڈی سی کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رواں ماہ میں 500/220/132کے وی گرڈ سٹیشن رحیم یار خان ،جنوبی پنجاب میں 220/132کے وی گرڈسٹیشن لال سہانرا ، وسطی پنجاب میں 500کے وی نیو لاہورگرڈ سٹیشن، خیبرپختوانخواہ میں 220کے وی مانسہرہ گرڈ سٹیشن مکمل کرکے انرجائز کردئیے گئے ہیں ۔جبکہ 145کلومیٹر طویل 500کے وی ڈبل سرکٹ نیلم جہلم ٹرانسمیشن لائن بھی حال ہی میں مکمل کرلی گئی ہے۔
دیگر ٹرانسمیشن لائنز کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ نیپرا نے 220کے وی اچ ۔سبی ٹرانسمیشن کی تکمیل میںتاخیر کی نشاندہی بھی کی ۔ترجمان نے واضح کیا کہ بلوچستان میں امن و عامہ کی مخدوش حالت اس ٹرانسمیشن لائن کی تکمیل میں تاخیر کا سبب بنی ۔ امن و امان کی صورتحال ایک واضح حقیقت ہے تاہم اس کے باوجود این ٹی ڈی سی نے326ٹاورز کی تنصیب کا کام مکمل کرلیا ہے اور 115کلومیٹر سے 62کلو میٹر سٹرنگنگ (Stringing)ورک مکمل کرلیاگیا ہے جبکہ بقیہ تعمیری کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیاجارہا ہے ۔
ترجمان نے مزید کہا کہ 220کے وی چکدرہ گرڈ سٹیشن ، 220کے وی مانسہرہ گرڈ سٹیشن اور 220کے وی نوشہرہ گرڈ سٹیشن Right of Way کے مسائل کی وجہ تاخیرکا شکار ہوئے تاہم 220کے وی چکدرہ گرڈ سٹیشن اور 220کے وی ڈیرہ اسماعیل خان گرڈ سٹیشن اپریل 2018میں مکمل کرلئے جائیں گے ۔ 1320میگاواٹ پورٹ قاسم پاور پلانٹ ، 1230میگاواٹ بلوکی پاور پلانٹ، 1223میگاواٹ حویلی بہادرشاہ پاور پلانٹ ، 1180میگاواٹ بھکھی پاور پلانٹ ، اور 1320میگاواٹ ساہیول کول پاور پلانٹ سے بجلی کی ترسیل کیلئے اہم ترین ٹرانسمیشن لائنز کی بروقت تعمیر مکمل کی گئی اور ان پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار کو قومی سسٹم میں شامل کیا گیا ۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ چائنا۔پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) منصوبوں کے تحت پاور پلانٹس سے بجلی کی ترسیل کیلئے حب اور تھرکی ٹرانسمشن لائنز کا تعمیری کام بھی تیزی سے مکمل کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ گرڈ سٹیشنز کے منصوبوں کی تکمیل پر وفاقی وزیر برائے توانائی (پاورڈویژن) اویس احمد خان لغاری ، اور وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی نے این ٹی ڈی سی کے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کی کاوشوں اور محنت کو سراہا ہے جو بلاشبہ حکومت کی پاکستان کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے کاشوں میں اہم کردار ہے ۔ مینجنگ ڈائریکٹر این ٹی ڈی سی نے بھی انجینئرز اور سٹاف کی سخت محنت کو سراہا ہے ۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے