پاکستان

ڈرون حملے نہیں رکوا سکتے، چیف جسٹس

مئی 9, 2019

ڈرون حملے نہیں رکوا سکتے، چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ڈرون حملے روکنے کے لیے دائر درخواست خارج کر دی ہے ۔

عدالت عظمی نے کہا ہے کہ ڈرون حملے روکنا عدالتوں نہیں حکومت کا کام ہے ۔

درخواست خارج کرنے کے بعد چیف جسٹس آصف کھوسہ نے جسٹس سجاد شاہ سے مسکراتے ہوئے کہا ہماری بھی خواہش ہے ڈرون حملے رک جائیں لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں ۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی تو درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح کے پالیسی معاملات حکومت کا اختیار ہے ۔

وکیل نے کہا کہ خواتین اور بچوں سمیت مویشی بھی ہلاک ہوئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو ڈرون اٹیکس بند ہوگئے ہیں ۔ پشاور ہائیکورٹ نے حکومت اور وزارت دفاع کو یہ معاملہ بھیجا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت دفاع اور وزارت خارجہ امریکہ سے بات کر سکتے ہیں ۔ عدالت تو امریکہ کو نہیں کہہ سکتی کہ ڈرون حملے بند کرو ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ نے بھی کہا تھا کہ یہ کام حکومت کا ہے ۔

ڈرون حملے رکوانے کے لیے راجہ سعد سلطان نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے