”اور تیل نکل آیا“
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے سمندر سے تیل نکلنے کے بیان کا ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں خوب چرچا ہوا تھا اور عام پاکستانی شہری اس سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے ۔
جمعہ کی صبح پاکستان کے بحری امور کے وزیر علی حیدر زیدی نے سوشل میڈیا پر اپنی اور وزیر پٹرولیم اسد عمر کی تصاویر ٹویٹ کر کے لکھا کہ وہ سمندر کے نیچے سے نکلنے والے تیل کے ایک بڑے چشمے کو دیکھنے کے لیے روانہ ہو رہے ہیں ۔
علی حیدر زیدی کے مطابق تیل کا ذخیرہ کراچی کے ساحل سے 230 کلومیٹر سمندر کے اندر ہے ۔
ہیلی کاپٹر میں روانگی کی تصاویر اپلوڈ کرنے والے علی زیدی کی ٹویٹ پر تجزیہ کار ظفر ہلالی نے لکھا کہ ”کیا یہ وہی مشہور تیل کا چشمہ ہے جس کو مسلسل کھودا جا رہا ہے اور کچھ نہیں نکل رہا۔ اگر ایسا ہے تو کیوں جا رہے ہیں؟ یا اس بار کوئی اچھی خبر ہے؟“
ایک صارف فرید اقبال نے کہا کہ ”سرکار ! اس تیل نکالنے پر پیسہ مت کریں خرچ ۔ یہ تو عوام کا تیل نکل رہا ہے مہنگائی سے اسی کو کام میں لے آئیں۔“
نو ون نامی ٹوئٹر ہینڈل سے علی زیدی کو رومن پنجابی میں لکھتے ہوئے جواب دیا گیا ہے کہ ”اب تیل نکال کر ہی واپس آئیں۔“
پاکستان زندہ ٹوئٹر ہینڈل نے کہا کہ اللہ کرے تیل نکل آئے ورنہ خان صاحب تو عوام کا تیل نکالنے کا سمجھ بیٹھے ہیں ۔

