پاکستان پاکستان24

قرضوں کی ادائیگی سے چھٹکارا ممکن نہیں: حکومت

جون 13, 2020

قرضوں کی ادائیگی سے چھٹکارا ممکن نہیں: حکومت

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے کہا ہے کہ خواہش تھی کہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص رقم عوام پر خرچ ہوتی لیکن ایسا ممکن نہیں اور واجب الادا قرض واپس کریں گے۔

سنیچر کو اسلام آباد میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر اور مشیر تجارت عبدالزاق داؤد نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشکل معاشی صورت حال میں عوام کو نوکریاں دینا ممکن نہیں ہوتا اور حکومت نے کورونا کے باعث مشکل میں آنے والی نوکریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

”صوبوں کو دینے کے بعد حکومت کے کل وسائل دو ہزار ارب ہیں۔ ایسے میں قرضوں کی ادائیگی پر 2700 ارب روپے خرچ کیے گئے۔اقتصادی ترقی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔“

مشیر خزانہ نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی جو کہ ماضی کا ملا تحفہ ہے اس سے چھٹکارہ نہیں پا سکتے ہیں۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اگر قرض نہ دینا ہوتا تواحساس پروگرام کو تین گنا بڑھا سکتے تھے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ’ہم نے حکومت کے اخراجات کم کرنے کے لیے مشکل فیصلے کیے۔ ہم عیاشی کے لیے قرضے نہیں لے رہے۔  ماضی کے قرضوں سے نمٹنے کے لیے قرضے لیے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس بجٹ کا یہی بنیادی پہلو ہے کہ نیا ٹیکس نہیں لگایا۔ ہم اخراجات کو کم کررہے ہیں اور کیے ہیں۔ ترقیاتی پروگرام کو بڑھانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔‘

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عوام کی مشکلات کم کرنے اور ریلیف دینے کے لیے بجٹ تیار کیا۔ ’کورونا وائرس کے باعث ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 

”کورونا سے پوری دنیا متاثر ہوئی اور آئی ایم ایف کے مطابق دنیا کی آمدن 4 فیصد گرے گی۔ اس کے اثرات ہم پر بھی آئیں گے۔ کسی کو یقین نہیں کہ اس کی شدت کتنی اور کب تک ہوگی۔ اس سے معیشت کو 3000ارب روپے کا نقصان متوقع ہے۔“

مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں ایف بی آر کی آمدن بھی اپنی رفتار سے چلتی تو 4700ارب تک پہنچ سکتے تھے۔ ’اب مشکل سے 3900ارب روپے تک پہنچیں گے ریونیوز میں نقصان 700 ارب روپے تک کا ہے۔ اس کے باوجود واجب الاد قرضوں کی ادائیگی میں کمی ممکن نہیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے