پاکستان پاکستان24

سپریم کورٹ: صدارتی نظام کے نفاذ کی درخواستیں ناقابل سماعت

ستمبر 27, 2021

سپریم کورٹ: صدارتی نظام کے نفاذ کی درخواستیں ناقابل سماعت

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے ریفرنڈم کرانے کی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین کی بنیاد پارلیمانی نظام ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین میں عدالت کو ایسا کوئی اختیار نہیں کہ سیاسی نظام کی تبدیلی کا حکم دے۔

پیر کو سماعت کے آغاز پر درخواست گزار وکیل احمد رضا قصوری نے مؤقف اختیار کیا کہ رجسٹرار کو درخواستیں مسترد کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے پوچھا کہ ان کی درخواستیں بنیادی انسانی حقوق سے متعلق کوئی ٹھوس بات کرتی بھی ہیں کہ نہیں؟ ملک میں طاقتور سیاسی جماعتیں موجود ہیں ان کی موجودگی میں عدالت کیوں آنا پڑا؟

احمد رضا قصوری نے کہا کہ پارلیمنٹ میں صرف گالی صداگلوچ ہوتی ہے، سیاستدان اگر ملک کے مفاد اور فلاح کا نہیں سوچتے تو کیا میں بھی خاموش ہو جاؤں؟

وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ ’آئین پاکستان کے بانی افراد میں سے میں واحد زندہ شخص اس وقت ملک میں موجود ہوں۔‘

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 6 کے تحت وزیراعظم ریفرنڈم کے لیے معاملہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھتے ہیں، کیا یہ معاملہ ابھی تک وزیراعظم یا پارلیمان کے سامنے آیا بھی ہے کہ نہیں؟
جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا صدارتی نظام کا نفاذ صرف فرد واحد کی خواہش ہے؟
احمد رضا قصوری نے کہا کہ وہ فرد واحد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’قصوری صاحب آئین بن رہا تھا اور آپ اس وقت رکن پارلیمنٹ تھے، آپ آئین کے بانی تھے تب پارلیمانی نظام حکومت کی مخالفت کیوں نہیں کی؟‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے