ملزمہ کو معاف کرنے کی اپیل، انڈین شاعر جاوید اختر پر تنقید
انڈیا کے معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر پر انڈین سوشل میڈیا صارفین ان کے اس بیان کی وجہ سے تنقید کر رہے ہیں جس میں انہوں نے مسلمان خواتین کی جعلی نیلامی کی ایپلیکیشن بنانے کے الزام میں گرفتار ایک 18 سالہ ملزمہ کو معاف کر دینے کی اپیل کی ہے۔
بدھ کو ایک ٹویٹ میں جاوید اختر نے لکھا تھا کہ ’اگر بلی بائی (ایپلیکیشن) حقیقتاً ایک اٹھارہ سالہ لڑکی نے بنائی ہے جو اپنے دونوں والدین کو کرونا وائرس اور کینسر کے ہاتھوں کھوچکی ہے تو میرا خیال ہے کہ خواتین کو اس سے بڑوں کی طرح ملنا چاہیے اور سمجھانا چاہیے کہ جو اس نے کیا وہ غلط کیا۔‘
’اسے ہمدردی دکھائیں اور معاف کر دیں۔‘
If “ bully bai” was really masterminded by an 18 year old girl who has recently lost her parents to cancer n Corona I think the women or some of them meet her and like kind elders make her understand that why what ever she did was wrong . Show her compassion and forgive her .
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) January 5, 2022
صبا نامی صارف جن کی تصویر اس ایپ پر اپلوڈ کی گئی تھی لکھتی ہیں کہ ’انہوں نے میری تصویر استعمال کی جس میں میرے ساتھ میری چھوٹی بیٹی بھی تھی۔ انہوں نے ایک بچی کی تصویر اس ایپ پر ڈالنے سے پہلے نہیں سوچا۔‘
صبا کے مطابق وہ ایسے گھٹیا لوگوں کے لیے کبھی ہمدردی نہیں رکھ سکتیں،
انہوں نے کہا کہ معاف کردوں؟ معذرت کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔‘
انڈیا میں حکام ’بلی بائی‘ ایپ بنانے اور اس پر جعلی نیلامی کے لیے مسلمان خواتین کی تصاویر اپلوڈ کرنے کے الزام میں اب تک تین افراد کو گرفتار کرچکے ہیں۔
اس ایپ پر 100 سے زائد نمایاں انڈین مسلمان خواتین جن میں صحافی، انسانی حقوق کے کارکنان، فلمی ستاروں اور آرٹسٹس کی تصاویر ایک ویب سائٹ پر موجود تھیں۔ یہ تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ویب سائٹ پر شائع کی گئی تھیں۔

