پاکستان

مونال ریستوران بند کرنے کا فیصلہ ابھی معطل نہیں کر سکتے: سپریم کورٹ

فروری 16, 2022

مونال ریستوران بند کرنے کا فیصلہ ابھی معطل نہیں کر سکتے: سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ وہ فیصلہ معطل کرنے کی استدعا ابتدائی سماعت میں مسترد کر دی ہے جس میں مارگلہ کے جنگلات میں واقع ملٹری ڈائریکٹوریٹ کے زیرانتظام مونال ریسٹورنٹ کو سیل کیا گیا تھا.

بدھ کو سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مونال ریسٹورنٹ سیل کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

مونال ریسٹورنٹ کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے نے تحریری حکم سے پہلے ہی مونال کو سیل کر دیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو کچھ ہو چکا ہے اسے فی الحال واپس نہیں کر سکتے۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے اور مونال کا تنازع سول عدالت میں زیر التوا ہے۔
’اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمہ زیر التوا ہونے کے باوجود فیصلہ سنا دیا۔‘

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پوچھا کیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے مروجہ طریقہ کار سے ہٹ کر فیصلہ کیا ہے؟

اس پر مونال ریسٹورنٹ کے وکیل نے کہا کہ ’شواہد ریکارڈ کیے بغیر ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ جاری کیا۔‘

مخدوم علی خان کے مطابق مونال ریسٹورنٹ تو کیس میں فریق ہی نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے سوموٹو لیتے ہوئے مونال کو سیل کرنے کا حکم دیا۔ کسی درخواست گزار نے مونال کو سیل کرنے کی استدعا نہیں کی تھی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کریں گے۔

سپریم کورٹ نے مونال کی اپیل پر وفاق سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ مونال ریسٹورنٹ اور دیگر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے