قانونی ترمیم، سوشل میڈیا پر ’عزت اچھالنا‘ قابل تعزیر جرم ہوگا: وزیر اطلاعات
پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ انتخابات کے لیے طے شدہ ضابطہ اخلاق میں تبدیلی اور سوشل میڈیا پر لوگوں کی ’عزت اچھالنے‘ کو قابل سزا جرم قرار دینے کے مجوزہ قوانین وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
سنیچر کو وزیراطلاعا نے کہا کہ ’وفاقی کابینہ کو دو اہم قانون منظوری کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ پہلے قانون کےتحت پارلیمنٹیرینز کو انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دوسرے قانون کے تحت سوشل میڈیا پرلوگوں کی عزت اچھالنے کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔‘
فواد چوہدری کے مطابق نئے قوانین میں ’عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ فیصلہ چھ ماہ میں کیا جائے۔‘
وزارت قانون کے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے فوج اور عدلیہ پر تنقید کو قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔
قانونی ترمیم کے بعد عدلیہ، فوج اور دیگر محکموں کے خلاف سوشل میڈیا پرنفرت انگیز مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔
مجوزہ ترمیم کے بعد تنقید کرنے والوں کو تین سے پانچ سال تک سزا دی جا سکے گی۔
پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جلد جاری کر دیا جائے گا۔

