اہم خبریں پاکستان

پیکا قانون میں ترمیم واپس لی جائے: وفاقی وزیر کا وزیراعظم سے مطالبہ

فروری 23, 2022

پیکا قانون میں ترمیم واپس لی جائے: وفاقی وزیر کا وزیراعظم سے مطالبہ

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی آمین الحق نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ پیکا قانون میں ترمیم کا صدارتی آرڈیننس واپس لیا جائے۔

بدھ کو انہوں نے یہ مطالبہ وزیراعظم کو لکھے گئے ایک خط میں کیا۔

حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے وزیر کا کہنا تھا کہ وہ متنازع آرڈیننس کے ذریعے پیکا قانون میں ترامیم سے متفق نہیں کیونکہ اس میں متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

خط کے مطابق وفاقی وزیر نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ پیکا آرڈیننس کے خلاف میڈیا اور دیگر سٹییک ہولڈرز کے احتجاج پر غور کریں اور فوری طور پر میڈیا اور دیگر متعلقہ حلقوں سے وسیع البنیاد مشاورت کا آغاز کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ ترامیم میں بلاضمانت گرفتاری اور فیک نیوز کی تشریح نہ ہونے سے ملک میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ ’اس حوالے سے صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق تنظیموں و ماہرین کی رائے لی جاتی تو بہتر ترامیم ہو سکتی تھیں۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، ہر حکومت میڈیا سے اپنے تعلقات بہتر بناتی ہے مگر اس ترمیمی آرڈیننس کی وجہ سے صحافی و صحافتی اور میڈیا تنظیمیں حکومت کے خلاف ہو رہی ہیں۔‘

انہوں نے خط میں وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ بغیر مشاورت کیے جاری آرڈیننس کے خلاف صحافتی و میڈیا تنظیموں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے