پاکستان

پاکستانی عدالتیں کشمیری شہریوں کے عائلی مقدمات نہیں سن سکتیں: ہائیکورٹ

فروری 28, 2022

پاکستانی عدالتیں کشمیری شہریوں کے عائلی مقدمات نہیں سن سکتیں: ہائیکورٹ

دانش ارشاد، صحافی. اسلام آباد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پاکستان کی عدالتیں جموں وکشمیر کے شہریوں کے فیملی کیسز نہیں سن سکتیں۔

اسلام آباد کی فیملی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کرنے کے بعد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک خاندان نے اسلام آباد کی فیملی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی گئی تھی جس پر درخواست گزار وکیل خلیق الرحمن سیفی نے موقف اپنایا تھا کہ پاکستان سیٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی دفعہ 14b کے تحت آزاد جموں کشمیر کے شہری کو پاکستان کا شہری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لئے پاکستان کی عدالتیں ان کے سول اور خاندانی معاملات سے متعلق مقدمات کی سماعت کے مجاز نہیں ہیں۔

اس کے ساتھ ہائی کورٹ اسلام آباد کے 2016 میں ہونے والے ایک فیصلے کا حوالہ دیا گیا جس کے تحت آزاد کشمیر کے شہری کے مقدمات پاکستان میں نہیں سنے جا سکتے۔

یہ موقف انہوں نے اسلام ہائی کورٹ میں دائر رٹ میں اپنایا جو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف کی گئی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ نے اسلام آباد کی ایک فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا جس میں فیملی کورٹ نے نان نفقہ کی ذمہ داری ابرار نامی آزاد کشمیر کے شہری پر ڈالی تھی جس کے خلاف اس کی سابقہ بیوی نے مقدمہ درج کر رکھا تھا۔

(میاں اور بیوی دونوں کا تعلق جموں کشمیر سے ہے) اور عدالت نے نان و نفقہ سے متعلق کیس کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے خاتون نسیم اختر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے نان و نفقہ کی ذمہ داری اس کے شوہر ابرار پر ڈالی جو نو لاکھ روپے تھی اور فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ابرار کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کئے اور ابرار کو گرفتار کیا گیا جس پر ان کے وکیل نے ان کی ضمانت کرواتے ہوئے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی کہ پاکستان کی کسی عدالت کو آزاد جموں کشمیر کے شہری کے خلاف سوائے فوجداری جرم کے کوئی مقدمہ سننے کا اختیار حاصل نہیں ۔

اس پر ایڈیشنل سیشن جج نے ان کی اپیل خارج کر دی جس پر وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی جس کی سماعت جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کی اور دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو آج پیر کے روز سنایا گیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے