پاکستان متفرق خبریں

کوئی ثبوت نہیں، غیرملکی سازش اور سپیکر کی رولنگ مسترد

جولائی 14, 2022 2 min

کوئی ثبوت نہیں، غیرملکی سازش اور سپیکر کی رولنگ مسترد

Reading Time: 2 minutes

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے غیرملکی سازش کو مسترد کر دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کیے گئے تفصیلی فیصلے میں ڈپٹی سپیکر کی تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا گیا ہے۔

بدھ کی رات گئے جاری کیا گیا سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ 86 صفحات پر مشتمل ہے جو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے۔

ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس پر فیصلے کا آغاز سورۃ الشعرا سے کیا گیا ہے۔ تفصیلی فیصلے کے مطابق ’چیف جسٹس آف پاکستان کے گھر اجلاس میں 12 ججز کی جانب سے ازخودنوٹس کی سفارش کی گئی تھی۔‘

تحریری فیصلے میں’عدالت عظمیٰ نے آئین پاکستان کے تحفظ کے لیے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر ازخود نوٹس لیا، ڈپٹی سپیکر کی جانب سے تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔‘

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وزیراعظم کی جانب سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا حکم بھی غیر قانونی ہے اور اس اقدام کو بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔‘

عدالت عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ڈپٹی سپیکر نے آرٹیکل 95 کو نظر انداز کیا اور آرٹیکل 5 کے تحت رولنگ دی جو کہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔‘
تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’تحریک انصاف کے وکیل کے مطابق غیر ملکی مراسلے کے تحت حکومت گرانے کی دھمکی دی گئی۔‘

فیصلے کے مطابق ’مبینہ مراسلے پر ڈپٹی سپیکر نے قومی اسمبلی میں بحث کرائی اور نہ ہی یہ مبینہ مراسلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دینے کا فیصلہ ذاتی طور پر وزیر قانون کے کہنے پر کیا۔’

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’قومی سلامتی کے نام پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو تسلیم کیا جاسکتا ہے نہ ہی ان کی رولنگ کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔‘

’ڈپٹی سپیکر کی رولنگ میں نہیں بتایا گیا کہ مبینہ غیر ملکی مراسلے کے مطابق وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے اپوزیشن کے کسی رکن نے کسی دوسرے ملک سے رابطہ کیا۔‘

عدالت عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق ’ڈپٹی سپیکر کی تفصیلی رولنگ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مبینہ مراسلے کے مطابق حکومت گرانے کے عمل میں کون شریک ہے۔‘

’دو اپریل کو اس وقت کے وزیر قانون نے بیرونی مداخلت سے متعلق کمیشن قائم کرنے کا کہا۔ انکوائری کمیشن کا قیام اس بات کا غماز ہے کہ سابق حکومت کو بیرونی مداخلت کا شک تھا۔‘

سپریم کورٹ کے مطابق ’ڈپٹی سپیکر نے قومی سلامتی کو جواز بنا کر تحریک عدم اعتماد مسترد کی، بیرونی سازش کے نامکمل، ناکافی اور غیر مصدقہ حقائق سپیکر کو پیش کیے گئے۔‘

عدالت کے سامنے بیرونی سازش سے متعلق ثبوتوں میں سے صرف ڈپٹی سپیکر کا بیان ہے، عدالت غیرملکی مداخلت سے متعلق دلیل سے مطمئن نہیں۔‘

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے