پاکستان

نااہلی ختم کی جائے،عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

اکتوبر 22, 2022

نااہلی ختم کی جائے،عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نااہلی کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

سنیچر کو عمران خان کی جانب سے وکیل علی ظفر نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔

اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہلی کے فیصلے کو ختم کیا جائے۔

عمران خان کے وکیل علی ظفر نے عدالت سے درخواست کے ساتھ فوری سماعت کی استدعا بھی کی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے عمران خان کی اپیل پر اعتراضات عائد کیے ہیں جن میں سے ایک میں کہا گیا ہے کہ اپیل کنندہ نے عدالت میں بائیو میٹرک کرانے نہیں آئے جبکہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی مصدقہ نقل بھی منسلک نہیں کی گئی۔

تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ بند کمرے میں کیا گیا۔ سازشیں بند کمروں سے باہر نہیں آ پا رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک الیکشن کمیشن نے فیصلے کی مصدقہ تحریری نقل بھی فراہم نہیں کی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ گزشتہ روز نااہلی کے فیصلے کے بعد عوام خود احتجاج کے لیے باہر نکلے اور پارٹی کی جانب سے کوئی کال نہیں دی گئی تھی۔

تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا تحریری فیصلہ اس لیے جاری نہیں کیا جا رہا کہ اُس میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ ’اگر آپ کے پاس فیصلہ موجود نہیں تو آپ نے کیا سنایا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے لیے تیاری کرنا پڑے گی۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

جمعے کو توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے قرار دیا تھا کہ عمران خان ’کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے۔ ان کی قومی اسمبلی کی نشست خالی قرار دی جاتی ہے۔‘

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پانچ رکنی کمیشن کا متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کو آرٹیکل 63 ون پی کے تحت نااہل قرار دیا جاتا ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے