پاکستان

تحریک انصاف کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا کہا؟

اکتوبر 27, 2022

تحریک انصاف کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا کہا؟

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہم نے کوئی ایسا بیانیہ نہیں گھڑا جس کی وجہ سے پاکستان کو کوئی نقصان پہنچے۔

جمعرات کو اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ اداروں کا احترام اور دفاع کیا ہے۔ یہ تأثر دینا کہ ہم کسی ادارے کی ساکھ خراب کرنا چاہتے، یہ حقیقت کے برعکس ہے۔ ہم نے ہمشیہ پاکستان کی فوج کی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے۔‘

’ایک حوالہ میٹنگز کا دیا گیا، سوال یہ ہے کیا ہم نے ان میٹنگز میں کوئی غیر آئینی مطالبہ کیا ہے۔ ہمارا ایک ہی مطالبہ شفاف الیکشن کا ہے۔‘

تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ ’یہ بھی کہا گیا کہ فوج اپنے آئینی کردار میں رہنا چاہتی ہے۔ یہ خوش آئند ہے۔ آرمی چیف سے ملاقاتوں میں کوئی غیرآئینی مطالبہ نہیں کیا گیا۔‘

’اس پر سوچ بچار ضرور ہونا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ یہ صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ جو لوگ ہمشیہ اداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا دفاع کرتے ہیں ، وہ کیوں سوال اٹھا رہے۔ اس پر بھی سوچنا چاہیے۔

’ اگر سوچ بچار کی جائے تو شاید پتہ چلے کہ اداروں سے بھی کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔‘

اسد عمر نے مزید کہا کہ ’یہ درست ہے کہ پاکستان نفرتوں کی وجہ سے ٹوٹا۔ کیا یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے یہ نفرتیں کیوں پیدا ہوئی تھیں۔ یہ اس لیے ہوا تھا کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت کی رائے کو کچلنے کی کوشش کی گئی تھی۔

انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بات یہ بھی کی لانگ مارچ پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ پرامن احتجاج عوام کا آئینی حق ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ ’ہم سے زیادہ فوج کے سے عشق کون کرتا ہو گا لیکن ہم نے طے کرنا ہے کہ کیا پاکستان کو ہم نے جمہوری ملک بنانا ہے یا برما اور شمالی کوریا بنایا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’عدم اعتماد کے بعد پاکستان کے عوام نے دو دفعہ فیصلہ دیا ہے اور عمران خان کے بیانیےکو ووٹ دیا ہے۔‘
’ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے آج مجھے دھچکا پہنچا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے