ادریس خٹک نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کردہ درخواست میں کیا کہا؟
پاکستان کے صوبے پنجاب کی لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی میں انسانی حقوق کے محافظ ادریس خٹک کیس میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کے فیصلے کی مصدقہ کاپی کی فراہمی اور ملٹری کورٹ آف اپیل میں سماعت کے لئے درخواست دائر کی گئی ہے۔
رستم اعجا ز ستی/اسلام آباد
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں درخواست کی سماعت پیر ہو گی۔
ادریس خٹک نے ایڈووکیٹ انعام الرحیم،ایڈووکیٹ ملک وحید اختر،ایڈووکیٹ ڈاکٹر محمد عثمان اور ایڈووکیٹ عبدالباسط تبولی کے توسط سے دائر کردہ درخواست میں ریاست پاکستان بذریعہ سیکرٹری وزارت دفاع،جج ایڈووکیٹ جنرل جی ایچ کیو اور رجسٹرار کورٹ آف اپیل شعبہ جج ایڈووکیٹ جنرل جی ایچ کیو کو فریق بنایا ہے۔
درخواست میں کیس کے مختصر حقائق بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ
درخواست گزار ادریس خٹک پاکستان کے شہری ہیں۔ جنہیں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 13-11-2019 کو موٹروے انٹر چینج صوابی سے اس کے اہل خانہ کو بغیر کسی اطلاع کے اغوا کیا تھا۔
درخواست گزار کے بھائی ڈاکٹر اویس خٹک نے مقامی پولیس سٹیشن میں درخواست گزار کے اغوا/ گمشدگی کی شکایت درج کرائی اور ایف آئی آر نمبر 611 مورخہ 16-12-2022 تھانہ لہورصوابی میں درج کرائی۔
درخواست گزار کے بھائی نے پشاور ہائیکورٹ میں حبس بےجا کی درخواست بھی دائر کی،تاہم، اسے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 2(1)(d) کے تحت ملٹری اتھارٹی کی طرف سے درخواست گزار کی غیر قانونی تحویل کا دعویٰ کرنے کے بعد خارج کر دیا گیا۔ بعد ازاں درخواست گزار پر آرمی ایکٹ 1952 کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے مقدمہ چلایا گیا۔
اس حقیقت کے باوجود کہ درخواست گزار ایک سویلین تھا اور ایف جی سی ایم کسی شہری پر مقدمہ چلانے کا مجاز قانونی فورم نہ تھا، درخواست گزار کو مجرم قرار دیا گیا اور نومبر 2021 میں اسے 14 سال کی سزا سنائی گئی اور اسے سول جیل بھیج دیا گیا۔
درخواست گزار کو اس کے مقدمے کی کارروائی کی کاپی نہیں دی گئی تاکہ وہ ملٹری کورٹ آف اپیل سے رجوع کر سکے۔اس کے پاس جو بھی زبانی معلومات دستیاب تھیں اس کی بنیاد پر، درخواست گزار نے PAA 1952 کے سیکشن 133B کے تحت اپنے وکیل کے ذریعے ایک اپیل دائر کی اور اپنی اپیل کی تیاری کے لیے ضروری دستاویزات کے ساتھ اپنے مقدمے کی کارروائی کی کاپی فراہم کرنے کی بھی درخواست کی۔
تاہم، تقریباً ایک سال گزر جانے کے باوجود درخواست گزار کو نہ تو اس کے مقدمے کی کارروائی کی کاپی فراہم کی گئی اور نہ ہی PAA 1952 کے سیکشن 133-B کے تحت ملٹری کورٹ آف اپیل کے سامنے مقرر کی گئی۔
درخواست گزار نے اپنے وکیل کے ذریعے اپنے مقدمے کی کارروائی کی کاپی فراہم کرنے اور اپیل کورٹ کے سامنے اپنی اپیل کے تعین کے لیے بار بار مدعا علیہان سے رجوع کیا لیکن سب بے سود۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو بغیر کسی جواز کے اپیل کورٹ کے سامنے اپنی اپیل طے نہ کرکے انصاف تک رسائی کے حق سے انکار کیا جا رہا ہے۔
مزیدبرآں ،درخواست گزار کے خلاف کی گئی کارروائی غیر قانونی اور دائرہ اختیار کے بغیر ہے، لہٰذا، اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973 کے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست قابل سماعت ہے۔اس حوالے سے متعدد عدالتی نظائر بھی پیش کئے گئے۔
درخواست گزار نے اپنی اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیل کے سامنے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 133-B کے تحت مقرر کردہ قانونی مدت کے اندر دائر کی۔پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 133-B میں دی گئی مقررہ مدت میں اپیل دائر کرنے کے باوجود درخواست گزار کی اپیل تقریباً ایک سال گزر جانے کے بعد بھی مقرر نہیں ہو سکی۔ درخواست گزار 13-11-2019 سے سلاخوں کے پیچھے ہے اور اسے انصاف تک رسائی کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے جہاں اس کی اپیل کو دانستہ کر مقرر نہیں کیا گیا تاکہ اس کے مصائب اور قید کو طول دیا جا سکے۔
درخواست میں جلد انصاف کی فراہمی کے حوالے سے بھی آئینی و قانونی حوالے دیتے ہو کہا گیا ہے کہ انصاف تک رسائی کا حق بھی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ 1948میں بھی درج شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے جیسے کہ شق آٹھ میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو آئین یا قانون کے ذریعے دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے کاموں کے لیے مجاز قومی ٹربیونلز کے ذریعے موثر تدارک کا حق ہے۔شق دس،ہر شخص اپنے حقوق اور ذمہ داریوں اور اس کے خلاف کسی بھی مجرمانہ الزام کے تعین میں ایک آزاد اور غیر جانبدار ٹریبونل کے ذریعے منصفانہ اور عوامی سماعت کا مکمل طور پر حقدار ہے۔
عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو پاکستان آرمی ایکٹ رول 130 کی تعمیل میں درخواست گزار کے کیس میں ایف جی سی ایم ٹرائل کی کارروائی کی مصدقہ کاپی فراہم کرنے کی ہدایت دی جائے۔
جواب دہندگان کو ہدایت کی جائے کہ درخواست گزار کی اپیل کو سماعت کے لئے مقرر کیا جائے اور قانون کے مطابق جلد فیصلہ کیا جائے۔

