پاکستان

اینکر مہر بخاری اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں میں بدترین لفظی گولہ باری

فروری 12, 2024 < 1 min

اینکر مہر بخاری اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں میں بدترین لفظی گولہ باری

Reading Time: < 1 minute

پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے حق میں مبشر لقمان کے ساتھ ٹی وی پروگرام/ انٹرویو کرنے والی اینکر مہر بخاری اور مسلم لیگ ن کے رہبماؤں کے درمیان سخت سوشل میڈیا معرکہ بپا ہے۔

اتوار کی رات لاہور سے جیتنے والے آزاد امیدوار وسیم قادر کے ن لیگ میں شامل ہونے کے بعد اینکر مہر بخاری نے اُن کی مریم نواز کے ساتھ تصویر کو ریٹویٹ کر کے تنقید کی۔

مہر بخاری نے لکھا کہ: وسعت اللہ خان نے کیا خوب کہا ووٹ کو نہ سہی خود کو ہی عزت دے دو۔

انہوں نے یہ تبصرہ ن لیگ کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کی گئی تصویر پر کیا۔

اس کے بعد ن لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم نے مہر بخاری کے اُس بدنام زمانہ پروگرام کے سکرین شاٹس شیئر کیے جن میں وہ مبشر لقمان کے سے سٹوڈیو میں بیٹھی ہوئی ہیں۔

آف ایئر گفتگو کے بعد ازاں لیک ہونے والے ان ویڈیو کلپس پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس بھی لیا تھا۔

مہر بخاری کے تنقیدی ٹویٹ کو ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے پوسٹ کر کے لکھا کہ: درست کہا۔

رانا ثنا اللہ نے ساتھ ہی اُس متنازع پروگرام کا سکرین شاٹ بھی شیئر کیا۔

اس کے بعد مہر بخاری نے رانا ثنااللہ کی ماضی کی ایک تصویر پوسٹ کی جس میں اُن پر تشدد کیا گیا گیا اور ساتھ میں لکھا کہ: معاف کرنا رانا جی، کاش کچھ سیکھ لیا ہوتا تو آج حلقے میں اتنا رسوا نہ ہوتے۔
انہوں نے اس کے ساتھ یوٹیوب کا لنک بھی شیئر کیا۔

اس کے جواب میں مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا کہ: مہر بخاری نے اپنے صحافتی کیریئر کا ایک اور زینہ طے کیا۔ اُن کو گٹر جرنلزم میں مزید آگے جانے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے