عالمی خبریں

کاش ڈونلڈ ٹرمپ سرف/ بلیچ کھا لیتے، امریکی صدر بائیڈن کا مذاق

مئی 11, 2024 2 min

کاش ڈونلڈ ٹرمپ سرف/ بلیچ کھا لیتے، امریکی صدر بائیڈن کا مذاق

Reading Time: 2 minutes

امریکی صدر جو بائیڈن نے سابق امریکی صدر کے حوالے سے مذاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاش ڈونلڈ ٹرمپ بلیچ کھا لیتے.

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی صدر نے یہ مذاق کورونا وائرس وبا کے ابتدائی دنوں میں دیے گئے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کو یاد کرتے ہوئے کیا۔

دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے مہم کے دوران ریاست سان فرانسسکو کے جنوبی علاقے میں ایک فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب میں صدر بائیڈن نے اپنے مخالف امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کی۔

انہوں نے ووٹرز سے کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں کیسے خراب حالات تھے۔

صدر بائیڈن نے کورونا وبا کے ابتدائی دنوں میں دیے گئے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یاد ہے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ سب سے بہتر کام یہ ہے کہ آپ اپنے بازو میں تھوڑا سا بلیچ انجیکشن کے ذریعے لگائیں؟ اس نے یہی کہا۔ اور اس کا مطلب یہی تھا۔ کاش اس نے تھوڑا سا بلیچ خود لیا ہوتا۔‘

سنہ 2020 میں وبائی مرض کے ابتدائی مہینوں کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ بلیچ یا آئسوپروپل الکوحل جیسے جراثیم کش کو انسانی جسم میں ’انجیکشن‘ کے ذریعے داخل کرنے سے وائرس سے حفاظت میں مدد مل سکتی ہے۔

صدر بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ سے رابطے کو ’محبت کے خطوط‘ کہہ کر مذاق اُڑایا تاہم انہوں نے غلطی سے کم جونگ کو جنوبی کوریا کا صدر کہہ دیا۔

صدر ٹرمپ نے کِم جونگ سے ملاقات کی تھی اور ان کے ساتھ متعدد خطوط کا تبادلہ کیا تھا جن کی کاپیاں اوول آفس میں رکھی ہوئی تھیں۔

ٹرمپ کی صدارتی مہم کے ترجمان نے صدر بائیڈن کے ریمارکس پر تبصرہ کرنے کے لیے روئٹرز کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

صدر بائیڈن اس سے پہلے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بلیچ والے معاملے کا مذاق اُڑا چکے ہیں۔ انہوں نے 24 اپریل کو واشنگٹن میں کہا تھا کہ ٹرمپ نے خود کو بلیچ کا انجیکشن لگایا تھا اور ’یہ سب ان کے بالوں میں چلا گیا تھا۔‘

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے