ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی وضاحت اور ایمان مزاری ایڈووکیٹ کا جواب
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی وضاحت اور ایمان مزاری ایڈووکیٹ کا جواب
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وکیل ایمان مزاری سے گزشتہ روز عدالت میں کی گئی گفتگو پر اپنی وضاحت پیش کی ہے۔
جمعے کو چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ’ایمان مزاری میری بیٹیوں کی طرح ہے، میں کل اسے سمجھا رہا تھا۔‘
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا کہنا تھا کہ ’میں تو بطور چیف جسٹس اور بڑا ہونے کے ناطے سمجھا رہا تھا۔‘
چیف جسٹس ڈوگر نے دعویٰ کیا کہ اُن کی کہی گئی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے طوفان کھڑا کر دیا گیا۔
’میں نے کہا تھا کہ آپ میرے فیصلوں سے اختلاف کر سکتی ہیں، ذات پر بات نہ کرتیں۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’میں نے تو نہیں کہا کہ میں پکڑ لوں گا، اِس بات کو کل سے پھیلایا جا رہا ہے۔‘
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ’ہادی صاحب کھڑے تھے تو میں نے کہا کہ انہیں پکڑ کر لے جاؤ ورنہ میں توہینِ عدالت کی کارروائی کروں گا۔‘
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’توہینِ عدالت کی کارروائی ہوئی تو بچی کا کیرئیر خراب ہو جائے گا۔‘
چیف جسٹس کے مطابق ’میں نے بچوں کی طرح سمجھایا لیکن وہ سمجھ نہیں رہی تھیں۔ بار بار کہہ رہی تھیں کہ بنیادی حقوق، کیا اِس کورٹ کے بنیادی حقوق نہیں ہیں؟‘
چیف جسٹس کے ان ریمارکس اور وضاحت پر ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’پہلے تو چیف جسٹس صاحب نے بدتمیزی کی۔ مجھے میری کام کی جگہ پر ہراس کیا اور کھلی عدالت میں دھمکی دی۔ اپنے کیے ہوئے پر شرم تو انہیں آئی نہیں، اور آج بھی sexist ریمارکس پاس کر رہے ہیں۔‘
ایمان مزاری نے مزید لکھا کہ ’میں نہ تو ان کی بیٹی ہوں اور نہ ہی ’بچی‘۔ میں ایک پروفیشنل وکیل ہوں۔ طوفان بدتمیزی کر کے اب کہتے ہیں کہ میری بات صحیح نہیں quote کی اور آج پھر وہی sexist باتیں کی ہیں۔‘

