آپریشن تھیٹر اور وائرلٹی کا جنون، علی ارقم کا کالم
لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جو صرف ایک خبر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں ایک گہری بیماری کی علامت ہے۔ دو خواتین ڈاکٹرز نے سی سیکشن آپریشن کے دوران شرط لگائی کہ “پہلے کون مکمل کرتا ہے”۔ اس مقابلے کے دوران انہوں نے مریضوں کی ویڈیو بنالی، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ پنجاب حکومت نے فوری طور پر ملوث ڈاکٹرز کو معطل کر دیا۔
یہ کہنا اب شاید مبالغہ آرائی نہیں کہ سوشل میڈیا نے ہمارے رویّوں اور ترجیحات کو نیا رخ دیا ہے۔ ہمارے ہاں اب ایسا ماحول بن چکا ہے جہاں ہر لمحہ، ہر تجربہ اور ہر عمل “شیئر ایبل” بنانے کی شعوری اور لاشعوری دوڑ جاری ہے اور اس دوڑ میں کوئی پیچھے نہیں رہا۔
عام نوجوان لڑکے لڑکیاں ہی نہیں، اب پروفیشنل طبقات بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وائرل ہونے کی خواہش ایک ڈاکٹر، استاد یا سرکاری افسر کے ہاتھ آتی ہے تو اس کے اثرات زیادہ گہرے، پیچیدہ اور نقصان دہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ یہاں معاملہ محض ذاتی اظہار کا نہیں، بلکہ اعتماد، ذمہ داری اور انسانی وقار کا ہے۔
گائے ڈیبورڈ (Guy Debord) بیسویں صدی کے ایک فرانسیسی مفکر، فلم ساز اور سماجی نقاد تھے۔ وہ جدید سرمایہ دارانہ معاشرے، میڈیا اور صارفیت کے اثرات پر تنقیدی نظر رکھتے ہیں
ڈیبورڈ کے مطابق جدید معاشروں میں اصل زندگی اور حقیقی تجربات آہستہ آہستہ “تماشے” میں بدل جاتے ہیں۔ یعنی لوگ زندگی کو براہِ راست جینے کے بجائے اسے دیکھنے، دکھانے اور اسکرین پر پیش کرنے لگتے ہیں۔
حقیقت اپنی اصل شکل میں کم اور ایک “نمائشی تصویر” یا “پرفارمنس” کے طور پر زیادہ نظر آنے لگتی ہے۔ اس صورتحال میں انسان خود اپنے تجربے کا حصہ کم اور اس کا ناظر زیادہ بن جاتا ہے۔
آسان الفاظ میں ڈیبورڈ یہ کہتے ہیں کہ جب معاشرہ “اسپیکٹیکل” بن جاتا ہے تو زندگی جینے کی چیز کم اور دکھانے کی چیز زیادہ بن جاتی ہے۔ لوگ اصل تجربات کے بجائے ان تجربات کی تصویریں، ویڈیوز اور ردعمل (likes, shares) کے گرد جینا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں حقیقت اور نمائندگی کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔
ڈاکٹر آپریشن تھیٹر میں ویڈیو بناتے ہیں یا نوجوان پارک میں اپنے عمل کو ریکارڈ کر کے وائرل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دونوں صورتوں میں اصل عمل (reality) سے زیادہ اس کی “نمائشی صورت” (spectacle) اہم ہو جاتی ہے۔ یعنی زندگی کا تجربہ خود نہیں، بلکہ اس کا تماشائی اور وائرل ورژن مرکزی چیز بن جاتا ہے۔
ویسے پارکس یا سڑکوں پر بے ہنگم رقص کرنے والے نوجوانوں اور ایک ہسپتال میں مریض کی ویڈیو بنانے والے ڈاکٹروں کے درمیان بظاہر ایک واضح فرق موجود ہے۔ نوجوانوں کا رویہ زیادہ تر خود کو یا اپنے گروہ کو تماشہ بناتا ہے، جس سے سماجی ناگواری تو پیدا ہوتی ہے، مگر براہ راست کسی مخصوص کمزور فرد کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔
اس کے برعکس، جب ایک ڈاکٹر مریض کی نجی اور کمزور حالت کو ویڈیو میں تبدیل کر دیتا ہے تو وہ ایک ایسے شخص کو نشانہ بنا رہا ہوتا ہے جو اس وقت جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر مکمل طور پر اس کے رحم و کرم پر ہے۔ اس کی پرائیویسی کو توڑنا اور اس کی کمزوری کے لمحوں کو “کانٹینٹ” بنا دینا محض غیر سنجیدگی نہیں، بلکہ ایک سنگین اخلاقی لغزش ہے۔ یہ پیشہ ورانہ ذمہ داری کی بنیادی روح سے متصادم ہے۔
اس پورے منظرنامے کا ایک اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو طبقاتی اور سماجی امتیاز ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رویّہ ایک جیسا ہونے کے باوجود اس کی تعبیر یکساں نہیں ہوتی۔ جب سڑکوں یا پارکوں میں نوجوانوں کی ٹولیاں بے ہنگم رقص یا شور شرابہ کرتی ہیں تو انہیں فوراً “غیر مہذب”، “جاہل” یا کسی خاص لسانی و علاقائی شناخت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ مگر جب اسی طرح کی حدود شکنی ایک پروفیشنل طبقے، مثلاً ڈاکٹرز یا کسی نسبتاً مراعات یافتہ گروہ کی طرف سے ہوتی ہے تو ردعمل نسبتاً محتاط، محدود یا وقتی ہوتا ہے۔
یہاں رویّے کی مذمت تو کی جاتی ہے مگر اسے کسی اجتماعی شناخت یا کلچر کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا۔ یہ فرق دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارا سماجی شعور خود بھی طاقت اور طبقے کے ڈھانچوں سے آزاد نہیں
یہی وہ مقام ہے جہاں اس عمل کی سنگینی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے ایسی حرکتوں پر صرف مذمت کافی نہیں۔ ملوث ڈاکٹرز کے خلاف سخت تادیبی کارروائی، ان کے پریکٹس لائسنس کی معطلی اور سرکاری نوکری سے برخاستی ضروری ہے۔
وائرلٹی کی اس وبا میں ایک بنیادی مماثلت دونوں صورتوں کو ایک ہی بڑے فریم میں جوڑتی ہے، اور وہ ہے حدود کا تحلیل ہونا۔ سوشل میڈیا نے نجی اور عوامی، سنجیدہ اور غیر سنجیدہ، پیشہ ورانہ اور تفریحی دائروں کے درمیان کی سرحدیں غیر واضح کر دی ہیں۔
زیگمنٹ باؤمن (Zygmunt Bauman) پولش ماہرِ سماجیات جدید معاشرے کی تبدیلیوں کو سمجھنے کیلئے “لیکویڈ ماڈرنٹی” (Liquid Modernity) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آج کا معاشرہ پہلے کی نسبت زیادہ غیر مستحکم، تیز رفتار اور مسلسل بدلنے والا ہو گیا ہے۔
آسان الفاظ میں باؤمن یہ کہتے ہیں کہ پہلے کے معاشروں کو ہم “ٹھوس” (solid) سمجھ سکتے ہیں، جہاں اقدار، روایات، ادارے اور سماجی اصول نسبتاً مستحکم اور واضح ہوتے تھے۔ لوگ جانتے تھے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، اور یہ حدود زیادہ عرصے تک قائم رہتی تھیں۔
لیکن “لیکویڈ ماڈرنٹی” میں یہ ٹھوس ڈھانچے آہستہ آہستہ پگھل کر ایک سیال (liquid) شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سماجی اصول، اخلاقی معیار اور رویّوں کی حدیں مستقل نہیں رہیں بلکہ حالات، میڈیا، ٹیکنالوجی اور نئے رجحانات کے ساتھ بدل رہی ہیں۔
جو چیز کل تک ناقابلِ قبول تھی، وہ آج معمول بن گئی ہے۔ جو چیز کبھی نجی سمجھی جاتی تھی، اب عوامی نمائش کا حصہ بن رہی ہے۔ جو عمل کبھی وقار، خاموشی اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا تھا، وہ اب تفریح یا وائرل ہونے کی منطق میں ڈھالا جا رہا ہے۔ یہ وہی "ڈیجیٹل کارنیوال” ہے جس کا ذکر میں نے پچھلے مضمون میں کیا تھا۔
اس تبدیلی کی جڑیں گہری نفسیاتی اور ثقافتی ہیں۔ فرد اب خود کو ایک مستقل “پرفارمنس” کی حالت میں محسوس کرتا ہے۔ “دیکھے جانے” اور “توجہ حاصل کرنے” کی خواہش آہستہ آہستہ دیگر تمام اقدار پر غالب آ رہی ہے۔ نتیجتاً وہ حدود، جو پہلے اخلاقی تربیت اور پیشہ ورانہ ضابطوں سے قائم تھیں، تیزی سے مٹ رہی ہیں۔
پروفیشنل جگہوں پر اس کا اثر خاص طور پر تشویشناک ہے۔ ایک ڈاکٹر کا مریض کی پرائیویسی کو نظر انداز کرنا صرف انفرادی غلطی نہیں، بلکہ پورے طبی نظام پر عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے۔ اگر استاد، جج یا سرکاری ملازم بھی اسی ذہنیت کا شکار ہو جائیں تو اثرات اور بھی وسیع ہو جاتے ہیں۔
اس “شیئر ایبل کلچر” نے سنجیدگی کے تصور کو بھی بدل دیا ہے۔ وہ کام جو کبھی خاموشی اور ذمہ داری کے ساتھ کیے جاتے تھے، اب انہیں بھی مزاح یا وائرل ہونے کی عینک سے دیکھا جانے لگا ہے۔ اکثر اوقات یہ رویّہ لاشعوری سماجی دباؤ کا نتیجہ ہوتا ہے، جہاں فرد خود بخود اس بہاؤ کا حصہ بنتا چلا جاتا ہے۔
اس پورے رجحان کو محض اخلاقی زوال یا انفرادی خرابی قرار دے دینا اس کی پیچیدگی کو کم کرنا ہے۔ یہ دراصل ایک وسیع تر سماجی اور ثقافتی تبدیلی کا نتیجہ ہے، جہاں ٹیکنالوجی، توجہ کی معیشت اور گروہی نفسیات مل کر انسانی رویّوں کو نئے سانچوں میں ڈھال رہی ہے۔
اصل چیلنج یہ نہیں کہ ہم صرف انفرادی سطح پر مذمت کریں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم ان حدود کو دوبارہ واضح اور مضبوط کیسے کریں جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناگزیر ہیں۔

