افغانستان میں یونیورسٹی پر حملوں میں ہلاکتیں، پاکستان نے طالبان کے الزام کی تردید کر دی
افغانستان نے الزام عائد کیا ہے کہ پیر کے روز مشرقی صوبے کنڑ پر کیے گئے مبینہ پاکستانی حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ 75 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
کابل کی طالبان حکومت کے مطابق زخمی ہونے والوں میں یونیورسٹی کے 30 طلبا سمیت بچے اور عام شہری بھی شامل ہیں۔
اِدھر پاکستان نے یونیورسٹی اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کے افغان حکومت کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اِن خبروں کو ’جھوٹ پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان انتہائی درستگی اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے۔
خیال رہے کہ چند ہفتے قبل افغان دارالحکومت کابل میں منشیات بحالی کے ایک مرکز پر ہونے والے فضائی حملے کے نتیجے میں، اقوامِ متحدہ کے مطابق 269 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کی دوپہر دو بجے سے شروع ہونے والے پاکستانی حملوں کے دوران مارٹر گولے اور راکٹ فائر کیے گئے۔
افغانستان کی ہائر ایجوکیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے اس مبینہ حملے کے نتیجے میں طلبہ و اساتذہ زخمی ہوئے جبکہ یونیورسٹی کی عمارتوں کو بھی بڑا نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے کنڑ یونیورسٹی پر حملے کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان درستگی اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے۔
پاکستان نے ان الزامات کی تردید بھی کی کہ اُس کی جانب سے سید جمال الدین یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت اطلاعات کے بیان میں افغان میڈیا کی جھوٹ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان درستگی اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز گذشتہ برس 9 اکتوبر کو اُس وقت ہوا تھا جب أفغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت نے کابل پر ہونے والے ایک بڑے فضائی حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔
اس مبینہ حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی صورت اختیار کر گئی تھی۔ اگرچہ اس وقت قطر کی ثالثی میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور مختلف ممالک کی سطح پر مذاکرات کی کئی کوششیں کی گئیں، تاہم اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپیں اور مبینہ فضائی حملے جاری رہے۔
پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند گروہ پاکستان کے خلاف حملے کر رہے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت اِن الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کرتی ہے کہ وہ کسی گروہ کو افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

