لیونل میسی کے ارجنٹینا کے ہاتھوں مصر کی شکست، ریفری کے فیصلوں پر بحث
فٹبال کے عالمی مقابلوں میں کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن نے مصر کی ٹیم کو دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لی ہے تاہم اس میچ کے دوران فرانسیسی ریفری کے بعض فیصلوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے-
پاکستان میںفٹبال کے کھیل پر نظر رکھنے والے اور برازیل کی ٹیم کے ایک بڑے مداح ذوالفقار علی ذلفی نے فیس بُک پر لکھا کہ
برازیل ہارا دکھ ہوا مگر صدمے جیسی کیفیت نہ تھی، ـ کیونکہ دو طرفہ مقابلہ تھا اور ناروے نے اچھے مواقع کو گول میں بدل دیا-ـ ایک فٹ بال شائق کی حیثیت سے ناروے کو مبارک باد بھی دی مگر ……….
مصر ہارا بلکہ جب اسے ہرایا گیا شدید صدمہ ہوا، ـ ایسا لگا جیسے ہمارا عشق، ہماری ثقافت اور ہماری تہذیب ہار گئی- ـ یہ دل شکن تھا ـ سینے پر بوجھ بڑھ گیا- ـ نہ اگلا میچ دیکھا گیا اور نہ فیس بک پر میسی فینز کی ہڑبونگ دیکھنے کی ہمت ہوئی-ـ
کوئی بھی ٹیم جیتے یا ہارے لیکن فٹ بال کو کبھی بھی نہیں ہارنا چاہیے ـ مصر ارجنٹینا میچ میں ریفری نے فٹ بال کو ہرا دیا-
یہ میری زندگی کا بدصورت ترین ورلڈکپ بن گیا- ـ میں میسی کے اندھے، بہرے مداحوں سے بحث نہیں کرنا چاہتا- ـ بس فٹ بال کی ہار پر خود سے تعزیت کر رہا ہوں-
فٹبال کے ایک مداح اور اس کے تاریخی تناظر پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار علی ارقم نے میچ کے بعد تبصرہ کیا کہ
آج کے ارجنٹینا بمقابلہ مصر میچ میں بلاشبہ ارجنٹینا فیورٹ تھی کھیل کے ہر شعبے میں یعنی دفاع، اٹیک، بہترین کھلاڑی، کوچنگ، گیم ٹیکٹکس وغیرہ میں ان کا کوئی جوڑ نہیں تھا اس لیے ارجنٹینا کی جیت کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے-
لیکن ارجنٹینا کے خلاف چھوٹی چھوٹی چیزوں پر فاؤل دینا-
مصر کے دوسرے گول کے بعد، لیسانڈرو مارٹینیز کے خلاف فاؤل کو نوے گز دور گول ہوجانے کے بعد وی اے آر ریویو کا اشارہ اور پھر اس بنیاد پر گول کو غیر قانونی قرار دیا جانا بہت سے فٹبال ماہرین اور تبصرہ نگاروں کی نظر میں درست فیصلہ نہیں تھا
وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ گول اگر کسی اور ٹیم کے خلاف ہوتا یا خود ارجنٹینا نے کیا ہوتا تو ریویو پر بات جاتی ہی نہیں-
پھر فاؤل تو آخری لمحات پر صلاح کے خلاف بھی ہوا، جس پر وہ احتجاج کر بھی رہے تھے-بس اتنی سی بات ہے-
میچ ایکسٹرا ٹائم میں بھی جاتا تو ارجنٹینا کے بینچ پر جس قسم کے کھلاڑی ہیں مصر کا چانس بہت مشکل تھا، لیکن غلط فیصلہ غلط ہے، اور بس-
دوسری جانب ارجنٹینا اور میسی کے مداح اس تمام تر تنقید کو طنزیہ تبصروں میںاڑاتے ہوئے اس کو ہارے ہوئے لوگوں کی رائے قرار دیتے ہیں-
کچھ ایسے سوشل میڈیا صارفین بھی سرگرم نظر آئے جو مصر میںفٹبال کے کھیل میںاچھی پیش رفت کو وہاںکے ڈکٹیٹر السیسی کی پالیسی کی کامیابی قرار دے رہے ہیںجبکہ اس موقع کو اخوان اور جماعت اسلامی پر تنقید کے لیے استعمال کر رہے ہیں-

