امریکہ، ایران مذاکرات پر متفق مگر جنگ بندی ختم ہو چکی ہے: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے تاہم اُن کے ملک اور ایران نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے-
اپنی سوشل ویب سائٹ ٹروٹھ سوشل پر امریکی صدر نے لکھا کہ اگر تہران نے اُن کو قتل کرنے کی کوشش کی یا ایسی کسی سازش کا حصہ بنا تو اُن کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جائے گا-
امریکہ نے جمعہ کے روز ایران سے مزید سختی سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے بند کرے۔
اس علاقے میں حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جو نومبر میں ہونے والے امریکہ کی کانگریس کے انتخابات سے قبل ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی طور پر حساس معاملہ ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس ہفتے کشیدگی میں اضافے کے باوجود امریکہ اور ایران بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں، تاہم انہوں نے اعلان کیا کہ گزشتہ ماہ دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان کشیدگی کے ایک ایسے ہفتے کے اختتام پر نسبتاً پرسکون دن سامنے آیا جس کے دوران قطر اور سعودی عرب کے تین تجارتی ٹینکروں پر فائرنگ کی گئی-
اس واقعے کے ردعمل میں امریکہ نے ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا اور ایران نے خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ‘ایران کے تمام علاقوں کو تباہ کرنے’ کے لیے تیار ہے۔
جمعہ کے روز کسی حملے کی اطلاع نہیں ملی کیونکہ علاقائی ثالث اس جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کی سفارتی کوششوں کو بچانے کی تگ و دو میں مصروف تھے، جس کا آغاز 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پلیٹ فارم پر لکھا: "اسلامی جمہوریہ ایران نے ہم سے ‘بات چیت’ جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ہم اس پر راضی ہو گئے ہیں، لیکن امریکہ نے انہیں دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے!”