خیبر پختونخوا میں دو دنوں کے دوران پولیس پر تین حملوں میں 6 اہلکاروں کی اموات
خیبر پختونخوا میں دو دنوںکے دوران پولیس پر حملوں میں چھ اہلکاروں کی اموات ہوئی ہیں-
بدھ کو اضلاع دیر اور بنوں میں شدت پسندوں کے حملوں میں چار پولیس اہلکاروں کی موت ہو گئی ہے جبکہ 25 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ دیر اور بنوں کے اضلاع میں دہشت گردی کے دو مختلف واقعات میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے-
دونوں اضلاع میں ہسپتالوں اور ریسکیو حکام نے چار اہلکاروں کی موت کی تصدیق کی جبکہ 25 پولیس اہلکار زخمی حالت میں طبی امداد کے لیے لائے گئے۔
بنوں کے میریان پولیس سٹیشن کے مرکزی گیٹ پر بارودی دھماکے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر دو اہلکار زخمی ہونے کی اطلاع ملی، جبکہ پولیس کے مطابق مین گیٹ پر تعینات سنتری اہلکار لاپتا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
بعد ازاں بنوں دھماکے میں زخمی ہونے والے 6 پولیس اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر سپتال بنوں منتقل کیا گیا-
ایک دن قبل ضلع ٹانک میں شاہراہ وزیرستان پر مشا جان بنگلہ کے قریب پولیس کی بکتر بند گاڑی کو بارودی سرنگ سے نشانہ بنایا گیا تھا-
ٕدھماکے میں ٹانک پولیس کے اے ایس آئی فرید اللہ اور سپاہی اختر زمان کی اموات ہوئی تھیں-
دھماکے میں عبد المالک اور قدرت اللہ نامی سپاہی زخمی ہوئے تھے جن کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا-
ٹانک پولیس بکتر بند گاڑی معمول کی گشت پر تھی جب نشانہ بنی-

